تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 112 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 112

تاریخ احمد یات - جلد ۳ 108 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک ۳۲ پیدائش ۱۸۳۲ء بمقام نانو نه مدرسه دارالعلوم دیو بند کے بانیوں میں سے تھے شیخ نہال احمد نانوتوی و مولوی محمد نیاز سهارنپوری سے کتب عربی و فارسی پڑھ کر دہلی گئے اور مولانا مملوک علی صاحب مدرس اول مدرسہ دہلی سے تحصیل علوم کی اور سند حدیث حضرت شاہ عبد الغنی محدث دہلوی سے حاصل کی ۱۸۶۰ء میں پہلا نج کیا ۱۸۶۸ء میں دوسری مرتبہ حج سے واپس آکر دہلی میں تعلیم و تدریس شروع کی ۱۸۷۶ء میں پادری تارا چند سے چاند پور ضلع شاہجہانپور میں اور ۱۸۷۷ء میں دیانند سرسوتی سے مناظرے کئے اس کے بعد مولانا کی صحت خراب رہی اور آپ نے پچاس سال کی عمر سے پہلے ہی ۴ جمادی الاول ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۵/ اپریل ۱۸۸۰ء میں وفات پانی اور قصبہ نانوتہ میں آپ کا مزار شریف ہے تحذیر الناس حجتہ الاسلام - رسائل قاسم العلوم- مصابيح التراریخ۔آب حیات تقریر دلپذیر مباحثه شما جهان پور - ہد۔تہ اشیعہ۔قبلہ نما آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔(قاموس المشاہیر جلد دوم ۱۹۸ ۱۹۹۔موج کوثر صفحہ ۲۱۸ ۲۱۹۔سوانح قاسمی از مناظر احسن صاحب گیلانی ۳۳- بدر ۲ / اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحه اکالم ۲ محلہ چابک سواراں میں ایک پرانی مسجد جو حویلی نواب سعد اللہ خان المشهور میاں خاں سے متصل ہے حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی بھی کچھ عرصہ یہاں رہے ہیں اب یہ مسجد فرقہ اہل حدیث کے قبضہ میں ہے اور آباد ہے بہت ساروپیہ صرف کر کے اس کی مرمت و توسیع کی گئی ہے اس کے ساتھ لڑکیوں کا مدرسہ بنات المسلمین بھی قائم ہے ( نقوش لاہور نمبر صفحہ ۵۶۰) ۳۵ مرقاة الیقین ایضا الحکم ۲۷ مارچ ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۰) بدر ۲۷ / جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ کے کالم -1۔حضرت مولوی صاحب کے ہمعصر حکماء میں سے بھیرہ کے ایک حافظ احمد دین صاحب (ولادت (۱۸۴۳ء) والد حافظ محمد یخنی صاحب (متولد ۷ / اکتوبر ۱۸۸۰ء) پراچہ بھیرہ بھی تھے۔حافظ احمد دین صاحب مرحوم کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک سو سالہ طبی بیاض مولف ہذا کے پاس محفوظ ہے جس میں حضرت خلیفتہ المسیح اول کے بعض وہ نسخے بھی درج ہیں جو ان کی بھیرہ کی واپسی کے بعد حافظ صاحب کو حاصل ہوئے ایک نسخہ پر جو اطر- مغل کا ہے / ستمبر اے ۱۸ء کی تاریخ درج ہے جس سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ آپ / تمبرا ہے ۱۸ ء سے قبل واپس آچکے تھے دوسری طرف تقویم شمسی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال حج ۳ / مارچ ۱۸۷۱ء کہ ہوا۔مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۲ سے قیاسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ حج سے فراغت کے معابعد ہی وطن کے لئے روانہ ہو گئے تھے اب اگر اس زمانہ کے ذرائع رسل در سائل کے مد نظر مکہ سے بھیرہ تک کی مسافت کا اگر تین چار ماہ میں ملے ہو نا فرض کر لیا جائے تو آپ کی مراجعت جون جولائی اے ۱۸ء میں ہوئی۔۳۷- مرقاة الیقین صفحہ ۱۲۶۔۳۸- مرقاۃ الیقین صفحہ ۷۵ اسے ثابت ہے کہ ۵۶-۱۸۵۴ء کی ترکی دروس کی جنگ کے بعد ہی کئی بھائی فوت ہو چکے تھے اور ریاست جموں میں ملازمت تک تو سبھی کا انتقال ہو گیا تھا۔۳۹- حضرت مولوی نور الدین صاحب نے اپنی سوانح میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مقلدوں کی مخالفت سے اہل حدیث کس درجہ سمے ہوئے تھے واقعہ یہ ہے کہ آپ کے ننھیال میں ایک نو عمر کٹر ہابی مولوی تھا جو اہلحدیث کی کتاب زیرہ الاسلام " کا ٹائٹل بیچ پھاڑ کر اس کی بجائے ایک دوسری کتاب " دار الشفاء" کا سرورق چسپاں کر رکھا تھا (مرقاۃ الیقین صفحه ۲۳۶) برق آسمانی بر خرمن قادیانی صفحه ۷۱ مرقاة الیقین صفحه ۰۳ ۲۰۴ ۲۰۳ ۴۴ مرقاة الیقین صفحه ۱۲۰ ۱۲۲ ۴۳- مرقاۃ الیقین صفحه ۱۲۴-۱۲۵۔-۴۴ ان پیر صاحب کا نام غالبا پیر حیدر شاہ تھا جو سید محبوب زبانی صاحب گیلانی (غوغیہ منزل بھیرہ) کے دادا تھے اور گیلانی سادات سے تعلق رکھتے تھے۔پیر شمشیر علی صاحب آف بھیرہ کا بیان ہے کہ ہمارے والد صاحب بیان کیا کرتے تھے کہ جب بھیرہ میں حضرت مولوی صاحب کی مخالفت ہوئی تو ہمارے خاندان نے ان سے تعاون کیا اور آپ نے ایک خط میں اس کا شکریہ بھی ادا فرمایا تھا۔۴۵ ان اصحاب نے حضرت کے مکان سے متصل نانبائی پر بھی دباؤ ڈالا کہ آپ کی روٹی پکانے سے انکار کر دے مگر اللہ کے اس بندہ نے