تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 105 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 105

تاریخ احمدیت جلد ۳ 101 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک بحمد اللہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اللہ تعالٰی نے کبھی بھی میری کچی اور درد دل کی دعاؤں کو ضائع نہیں کیا۔اور نہ ہی کبھی مجھے کسی دھوکا میں مبتلا کیا۔حضرت مرزا صاحب کا خیال مجھے پہلے پہلے اس بات سے پیدا ہوا کہ ایک بڑا انگریزی تعلیم یافتہ اور بہت بڑا عهده دار شخص جو کہ مسلمان کہلاتا تھا۔میرا اس سے حضرت نبی کریم ﷺ کی نبوت کے معاملہ میں مباحثہ ہوا۔کیونکہ وہ ایسے دعاوی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔آخر کار دوران گفتگو میں اس نے تسلیم کیا کہ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین یقین کرتا ہوں لہذا اس معاملہ میں اب بحث نہیں کرتا۔اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ بھلا ختم نبوت کی کوئی دلیل تو بیان کرو۔کیونکہ میرا خیال تھا کہ اس شخص نے اس وقت یہ اقرار صرف پیچھا چھڑانے کی غرض سے کر لیا ہے۔چنانچہ میرادہ خیال درست نکلا اور اس نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت کی کمال دانائی اور عاقبت اندیشی اس امر سے مجھے معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے ختم نبوت کا دعویٰ کیا۔کیونکہ آپ زمانہ کی حالت سے یہ یقین کر چکے تھے کہ لوگوں کی عقلیں اب بہت بڑھ گئی ہیں اور کہ آئندہ ایسا زمانہ اب نہیں آوے گا کہ لوگ آئندہ کسی کو مرسل یا صبط وحی مان سکیں۔اسی بناء پر آپ نے (نعوذ باللہ ) دعوی کر دیا۔کہ میں ہی خاتم النبین ہوں اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو بڑے اعلیٰ درجہ کا دانا اور عاقبت اندیش انسان مانتا ہوں۔میں نے اس دلیل کو سن کر بہت ہی رنج کیا۔اور میرے دل کو سخت صدمہ اور دکھ پہنچا کہ یہ شخص بڑا ہی محجوب اور بے باک ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ اولیائے کرام کے حالات سے بھی نابلد محض ہے۔اب چونکہ ایک طرف تو اس سے مباحثہ ہوا تھا اور اس کا صدمہ دل پر ابھی باقی تھا۔دوسری طرف وہیں کے پرائم منسٹر نے مجھے حضرت اقدس کا پہلا اشتہار دیا۔جس میں اس سوفسطائی کا ظاہر اور بین جواب تھا جو نہی کہ پرائم منسٹر نے مجھے وہ اشتہار دیا میں فورا اس کو لیکر اسی عہدہ دار کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ دیکھو تمہاری وہ دلیل کیسی غلط اور ظنی ہے۔اس وقت بھی ایک شخص نبوت کا مدعی موجود ہے اور وہ کہتا ہے کہ خدا مجھ سے کلام کرتا ہے۔یہ سن کر وہ نہایت گھبرایا اور متحیر ہو کر بولا کہ اچھا دیکھا جاوے گا۔" IKA حضرت مسیح موعود کی پہلی بار زیارت دنیائے اسلام میں اشاعت و حمایت اسلام کا دم بھرنے والی انجمنیں اپنے فرائض منصبی فراموش کر چکی تھیں۔عیسائیت ، برہمو سماج آریہ سماج اور دوسرے فتنے اسلام کو نڈھال کر رہے تھے۔اور مسلمان علماء و برام میں ان کے مقابلہ کا دم خم باقی نہیں تھا۔اور گو اب تک آپ اپنے ماحول میں غیر مسلموں سے گویا چومکھی لڑائی لڑ رہے تھے۔مگر یہ کام صرف ایک عالم دیں کا نہیں تھا اس کے لئے تو