تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 104 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 104

تاریخ احمدیت جلد ۳ 100 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک حضرت مسیح موعود سے غائبانہ تعارف اب ہم حضرت مولوی صاحب کے سوانح حیات کے اس اہم حصہ تک آپہنچے ہیں جسے آپ کی زندگی کا عبد انقلاب کہا جائے تو ہر گز مبالغہ نہ ہو گا۔اور وہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق وابستگی کا آغاز !! حضرت اقدس علیہ السلام سے آپ پہلے پہل کیسے روشناس ہوئے؟ آپ کے شاگرد خلیفہ نور الدین صاحب جھوٹی کا کہنا ہے کہ حضرت اقدس کا تعارف آپ کو سب سے پہلے ضلع گورداسپوری کے ایک صاحب شیخ رکن الدین صاحب سے ہوا۔(جو ان دنوں جموں کے ایک ہندو کی جائیداد پر منتظم و منصرم تھے ) شیخ صاحب نے بتایا کہ ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان میں ایک شخص مرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کی حمایت میں رسالے لکھتے ہیں (غالبا ان دنوں براہین احمدیہ شائع ہو رہی تھی) حضرت مولوی صاحب نے یہ سن کر حضرت کی خدمت میں مخط لکھ کر کتابیں منگوا ئیں اور ان کے آنے پر جموں میں حضور کا چر چا شروع ہو گیا۔گو حضرت اقدس علیہ السلام کے مضامین " منشور محمدی" وغیرہ مسلم اخبارات میں ایک عرصہ سے نکل رہے تھے مگر ہمیں یہ باور کرنے میں ذرہ برابر تامل نہیں ہے بلکہ ہم اسے عین قرین قیاس سمجھتے ہیں کہ حضور کا نام مبارک ابتدء ! آپ نے شیخ صاحب ہی کی زبانی سنا ہو گا۔کیونکہ وہ بھی ضلع گورداسپور ہی کے باشندے تھے جہاں قادیان واقع ہے۔تاہم حضور سے تعلق و رابطہ کی فوری وجہ یہ ہوئی کہ آپ کا ایک تعلیم یافتہ مسلمان افسر سے ختم نبوت کے بارے میں ایک مباحثہ ہوا۔جس کے دوران میں آپ کو حضرت مسیح موعود کا وہ پہلا اشتہار ملا جو حضور نے اپنے دعوئی ماموریت کے بعد نشان نمائی کی عالمگیر دعوت کے لئے ایشیا امریکہ اور یورپ کے تمام مذہبی عمائد و مفکرین کو بھجوایا تھا یہ اشتہار آپ کو دیوان اننت رام یا دیوان گوبند سائے نے دیا تھا۔جو ان دنوں ریاست کے وزیر اعظم تھے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب اس واقعہ کی تفصیل میں خود ہی تحریر فرماتے ہیں۔میں نے بہت بزرگوں سے بیعت بھی کی ہے۔منجملہ ان مشہور لوگوں کے حضرت شاہ عبد الغنی صاحب مہاجر مدنی مجددی بھی ہیں۔اور ملک بخارا کی طرف کے مشہور لوگوں میں سے حضرت محمد جی نامی میرے پیرو مرشد تھے۔اور علماء میں سے مولوی عبد القیوم صاحب مرحوم مولوی عبدالحئی صاحب مرحوم کے صاحبزادے تھے۔اور ان کے سوا اور بزرگ بھی ہیں۔میں نے بڑے بڑے شہروں۔مثلاً لکھنو۔رام پور بھوپال مکہ معظمہ میمن مدینہ طیبہ اور آخر کشمیر وغیرہ میں اس دعا کے بعد جن جن لوگوں سے تعلق محبت یا نیاز پیدا کیا ہے۔وہ سب کے سب