تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 103 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 103

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 99 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کی روک تھام کا انتظام کیا جائے اس کے ساتھ ہی مسلمانان ہندوستان کے قائد اعظم جناب سرسید خان بہادر علیہ الرحمتہ کی اٹھائی ہوئی آواز پر کہ قوم کی پستی کا علاج دینی تعلیم کے ساتھ مروجہ تعلیم میں مضمر ہے غور کیا جائے اس مجلس مشاورت کا نتیجہ ایک جماعت کی تشکیل ہوا۔جس کا نام انجمن حمایت اسلام لاہور رکھا گیا۔(۱) مخالفین اسلام کے اعتراضات کا تحریری و تقریری جواب دینا (۲) مسائل اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور (۳) مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کی دینی اور دنیوی تعلیم کا انتظام یہ تین مقاصد قرار پائے۔" | حضرت مولوی نور الدین صاحب نے جو پہلے " اشاعت اسلام" کے نام پر دیوانہ وار آگے آئے اب پھر "حمایت اسلام" کے نام پر دل و جان سے لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں آگئے اور انجمن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہر ممکن سعی و جد وجہد سے کام لینے لگے اور ہمیشہ اس کی مالی اعانت بھی کی۔مضامین بھی لکھے۔اور اس کے پلیٹ فارم سے قرآنی علوم و معارف کے نکات سنا سنا کر خوابیدہ دل مسلمانوں کو جگاتے اور ان کے دلوں کو گرماتے رہے۔اگرچہ تبلیغ و اشاعت اسلام کی غرض جو اس کے اولین مقاصد میں سے تھی انجمن کے وجود سے نہ پوری ہوئی نہ ہو سکتی تھی جیسا کہ امام الزمان نے فتح اسلام میں کھول کر بتایا یہ چیز تو مامور ربانی سے ہی سرانجام پاسکتی ہے۔محض انجمنوں کا وجود کافی نہیں ہے۔تاہم حضرت مولوی صاحب انجمن کی شاندار تعلیمی خدمات کو آخر دم تک قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہے حتی کہ اس کے خلاف کوئی نازیبابات آپ کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتی تھی۔چنانچہ آپ کے زمانہ خلافت میں آپ کے ایک مرید (عبد العلی صاحب بھیروی) نے انجمن کو کچھ نا ملائم و ناشائستہ الفاظ سے یاد کیا تو آپ نے ان کے سگے بھائی کو اپنے قلم سے ایک خط لکھا اس میں سخت سرزنش فرمائی اور بتایا کہ۔بر اسلحے کو صرف تنقید پر اسے انہیں قنات روستم کی دل سے تحقیر کی نہیں۔عبد العلی کو صرف ابتلا ہے اس نے انجمن حمایت اسلام کی دل سے تحقیر کی تھی۔" خط مرقومہ ۱۶ جنوری ۱۹۰۹ء بنام حافظ احمد دین صاحب پراچہ بھیروی "