تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 96 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 96

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 92 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک سے حملہ نہیں کرتے۔آپ نے برجستہ جواب دیا کہ وہ ساتھ ہی گائے کا گوشت بھی کھاتے رہتے ہیں اس سے اصلاح ہو جاتی ہے۔یہ سن کر وہ دم بخود رہ گئے اور دو سال تک آپ سے کوئی مذہبی مباحثہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔کسی دوسرے موقعہ پر مہاراجہ کشمیر نے کہا کہ مولوی صاحب ! ان اختلافوں کے مٹانے کے لئے بھی کوئی معیار ہے؟ آپ نے فرمایا کہ آپ ہی کچھ سوچئے کہ کیا معیار ہو سکتا ہے کہنے لگے مذہب وہ سچا ہے۔جو پراچین (قدیم) ہو اور تمہارا تو صرف بارہ سو سال سے ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہمارے یہاں فبهداهم اقتده (سوره انعام آیت : 91) آیا ہے یعنی جو پرانا اور اچھا ہو اس کی پیروی کرو۔انہوں نے سنکر کہا کہ رامچند رجی سب سے پرانے ہیں ہم ان کو مانتے ہیں۔آپ نے پوچھا۔رامچند رجی کس کی پرستش کرتے تھے کہنے لگا۔وشن کی۔آپ نے سوال کیا کہ وہ کس کی کرتے تھے کہا وہ ردر کی۔آپ نے پھر پوچھا وہ کس کی عبادت کرتے تھے جواب دیا۔برہما کی۔پھر آپ نے پوچھا برہما کس کی عبادت کرتے تھے۔مہاراجہ نے کہا۔ایشور کی۔اس پر آپ نے فرمایا۔ہم وحدہ لا شریک خدا کی پرستش کرتے ہیں۔اور اس کا نام اسلام ہے غرض کہاں تک بیان کیا جائے۔مہاراجہ کے سامنے حق کی آواز پہنچانے اور دین اسلام کی خوبیاں بیان کرنے میں آپ پوری طرح نڈر اور بے خوف تھے۔اس سے بخوبی اندازہ لگ سکتا ہے کہ جب مہاراج کو کھلم کھلا تبلیغ کرتے ہوئے آپ کی طرف سے اس جوش اور اس ولولہ کا اظہار ہو تا تھا تو دوسرے درباریوں ، رئیسوں، پنڈتوں اور عیسائی پادریوں سے مذہبی گفتگوؤں کا کیا رنگ ہو گا ؟ ایک دفعہ وہاں کے گورنر پنڈت رادھا کشن نے (جو بدھ تھے) راجہ امر سنگھ کے مکان پر کہا کہ لیکھرام کے اسلام پر بعض اعتراضات بالکل لا جواب ہیں۔آپ نے راجہ صاحب کو منصف بنا کر ان سے پوچھا کہ ان اعتراضوں میں سب سے اعلیٰ درجہ کا اعتراض کریں ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے انہوں نے اعتراض کیا کہ اسکندریہ کا کتب خانہ حضرت عمر کے حکم سے جلایا گیا تھا ؟ آپ نے ان سے دریافت کیا۔کہ اس دور کی کوئی مستند تاریخ آپ کے نزدیک کونسی ہے اس پر انہوں نے انگریز مورخ ایڈورڈ گبن (۱۷۳۷ - ۱۷۹۴) (EGIBBON) کی کتاب Decline and fall of the Roman Empire Dialine ( تاریخ زوال سلطنت روما) کا نام لیا۔یہ کتاب اسی وقت کتب خانہ سے منگوالی گئی اس میں گہن نے اس شرمناک الزام کی سختی سے تردید کی تھی۔اور اس کا بے بنیاد ہونا دلائل سے ثابت کیا تھا۔اس حوالہ نے ساری بحث کا خاتمہ کر دیا۔غالباً انہی گور زیاد یوان امرناتھ گورنر جموں سے آپ کی عورت مرد میں مساوات کے بارے میں ایک دلچسپ گفتگو بھی ہوئی۔جس سے وہ ہکا بکا رہا گیا۔