تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 95 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 95

تاریخ احمدیت جلد ۳ 91 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک ملازمت کے دوران ریاست میں تبلیغ و اشاعت اسلام کی وسیع سرگرمیاں آپ کی سعی و جدو جہد ۹۸ صرف طبی خدمات تک محدود نہیں تھی۔بلکہ اس دور میں آپ نے تبلیغ و اشاعت اسلام کی وسیع سرگرمیاں جاری کر رکھی تھیں اور یہ زمانہ آپ کے لئے زبردست تبلیغی اور تربیتی اور علمی جہاد کا زمانہ تھا۔مہاراجہ کشمیر اسی ہزار مربع میل کا مالک اور تقریباً پچیس لاکھ نفوس پر حکمران تھا۔اور اڑتالیس ہزار فوج اس کے ادنی اشارہ پر حرکت میں آجاتی تھی اس کے رعب و داب اور شان و شوکت کو دیکھ کر اس کے سامنے بڑے بڑے لوگوں کے دل دہل جاتے تھے اور ان کے لئے خوشامد اور چاپلوسی اور کاسہ لیسی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔مگر حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ المسیح اول تو خدا کے بہادر سپاہی اور پیشہ علم و عمل کے شیر تھے جو باطل کی بڑی سے بڑی قوت کے ساتھ اپنے علم و اخلاق اور روحانیت سے ٹکرا جاتے تھے۔مگر اس کے سامنے دب کر رہنا آپ کو کسی طرح گوارا نہیں تھا !! مہاراجہ کے دربار میں آپ کی حق گوئی جرأت اور خودداری مشہور تھی۔آپ سولہ برس تک غیر مسلم فرمانروا کے ملازم رہے مگر آپ کو دوسرے درباریوں کی طرح ایک دفعہ بھی ان کو سلام کرنا نہیں پڑا مہاراجہ کشمیر بارہا سر دربار آپ کی طرف اشارہ کر کے تمام درباریوں کو مخاطب کر کے کہا کرتے تھے کہ تم سب اپنی اپنی غرض لے کر میرے پاس جمع ہوئے ہو اور میری خوشامد کرتے ہو لیکن صرف یہ شخص ہے جس کو میں نے اپنی غرض کے لئے بلایا ہے اور مجھ کو اس کی خوشامد کرنا پڑتی ہے۔ایک دفعہ مہاراج نے آپ کو تنہائی میں بتایا کہ میں آپ سے بہت ڈرتا ہوں اور بعض اوقات ایسی چشم پوشی کرتا ہوں کہ میری طبیعت کے وہ بالکل خلاف ہوتی ہے۔پھر کہا کہ سلطان محمود غزنوی شاہی خاندان کا شاہزادہ اور حسب و نسب کے اعتبار سے شاہان ایران کی نسل سے تھا مگر فردوسی نے بعض شعر کہکر ہمیشہ کے لئے اس پر خطر ناک ٹیکہ لگا دیا۔یہی وجہ ہے کہ میں آپ جیسے مصنف لوگوں سے بہت ڈرتا ہوں۔مہاراج سے آپ کا کئی دفعہ مذہبی تبادلہ خیالات بھی ہو تا تھا۔اور بات اکثر بحث و مباحثہ تک جا پہنچتی تھی مگر آپ ہر قسم کے عواقب سے بے پرواہ ہو کر بر سر مجلس کلمہ حق سنا دیتے تھے اور دلائل ایسے پیش فرماتے کہ ان کو لاجواب اور ساکت ہو نا پڑتا تھا۔حالانکہ ہمیشہ آپ انہی کو منصف مقرر کرتے تھے۔ایک مرتبہ مہاراجہ صاحب نے آپ سے کہا کیوں مولوی جی اتم ہم کو تو کہتے ہو کہ تم سور کھاتے ہو اس لئے بیجا حملہ کر بیٹھتے ہو۔بھلا یہ بھی تو بتاؤ کہ انگریز بھی تو سور کھاتے ہیں وہ اس طرح عاقبت نا اندیشی