تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 79 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 79

تاریخ احمدیت جلد ۳ 75 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک نکل گئی اور وہ بیہوش ہو کر گر پڑے۔تھانہ دار کو جب یہ معلوم ہوا کہ تحصیلدار مارا جا چکا ہے تو اس کو خیال آیا کہ ہم تھانہ سے با قاعدہ رونا مچہ میں روانگی درج کر کے نہیں آئے ہم کو تھانہ سے باقاعدہ آنا چاہئے۔چنانچہ تحصیلدار کے بیہوش ہو کر گرتے ہی تھانہ دار مع تمام سپاہیوں کے وہاں سے بھاگ گیا اس کے جاتے ہی یکلخت تمام مسجد خالی ہو گئی حتی کہ ان منبر پر چڑھنے والے مولوی صاحب کا بھی کوئی پتہ نشان نہ تھا۔تحصیلدار رام داس کو جب ہوش آیا تو ان کا چہرہ زرد اور منہ فق تھا۔اور اس تمام مسجد میں سوائے آپ کے اور ان کے کوئی تیسرا آدمی نہ تھا۔تحصیلدار نے بڑی لجاجت اور خوفزدہ آواز سے کہا۔مہاراج میں آپ کا مخالف نہیں ہوں۔معلوم ہو تا تھا کہ ان کو اندیشہ ہے کہ یہ مذہب کے جوش میں مجھ کو قتل نہ کرڈالیں۔آپ نے ان کو محبت سے اٹھایا اور گلے لگالیا۔لیکن ان کا اندیشہ رفع نہ ہوا۔تحصیلدار قد میں آپ سے چھوٹے اور بڑے شریف الطبع انسان تھے آپ نے ان کو اپنی بغل میں دبا لیا۔اور اسی طرح بغل میں لئے مسجد سے باہر نکل آئے۔لوگ ہوا ہو گئے تھے کسی کا پتہ نشان نہ تھا جوں جوں دونوں شہر کے قریب آتے جاتے تھے تحصیلدار کا چہرہ بشاش ہوتا جاتا تھا جب دروازہ میں آئے تو انہوں نے ذرا ہوش سنبھالا اور جب چوک میں پہنچے تو بالکل سنبھل گئے اور آپ سے کہا کہ آپ ارشاد کریں تو میں تحصیل کو چلا جاؤں آپ نے کہا ہاں جاؤ۔جب قتل کے منصوبوں میں بھی صریح ناکامی ہوئی تو علماء نے بعض پیروں سے ساز باز کر کے آپ کو بھیرہ سے نکال دینے کی تجویزیں سوچنا شروع کر دیں۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اصبح اول نے " مرقاه الیقین " میں لکھا ہے !کہ " ہمارے شہر میں ایک بہت بڑے پیر ولایت تھے بہت کچھ سمجھا کران سے لوگوں نے یہ اقرار لے لیا کہ اس قدر عہد دے دیں گے کہ نور الدین کو شہر سے نکال دیں جب پیر صاحب آرے۔بلے۔کہہ چکے مجھ کو بھی یہ خبر پہنچی۔میں دوپہر کے وقت پیر صاحب کے پاس پہنچا اور وہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت پیر صاحب اکثر تنہا ہی ہوتے تھے میں نے کہا کہ عرض کرنے آیا ہوں جو بہت ہی مختصر ہے یہ باغ جو آپ کے گھر کے پاس ہے اس باغ کی نسبت ایک سوال ہے کہ " آپ حجرہ شاہ مقیم " کے رہنے والے ہیں اور وہ یہاں سے بہت دور ہے یہ باغ آپ کو اس شہر میں کس طرح مل گیا ؟ بس میرا اتنا ہی سوال ہے " پیر صاحب نے فرمایا کہ آپ کے دادا نے ہمارے دادا کو دیا تھا۔میں نے کہا کہ بہر حال آپ کو ہمارے خاندان سے کچھ نفع پہنچا ہے یہ سن کر انہوں نے فرمایا کہ میں اور آپ کا بڑا بھائی لاہور میں ایک جگہ رہتے تھے اور ہمارے باہم بہت کچھ رسم آمد و رفت تھی۔میں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ میرے اس شہر سے نکالنے میں شریک ہیں۔خیر یہ تو احسان کا بدلہ ہی ہو گا۔مگر اتنا آپ یاد رکھیں کہ جو لوگ میرے مرید اور معتقد ہیں وہ تو کم سے کم آپ کو کبھی سلام نہ کریں گے۔یہ