تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 602
تاریخ احمدیت جلد ۳ 554 خلافت اولی کی نسبت آسمانی شاد میں فصل چهارم حضرت خلیفہ اول کے بعض رویاء و کشوف اور الہامات حضرت خلیفہ اول ان مقدس اور برگزیدہ انسانوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالٰی سے ہمکلامی کا شرف عطا ہوتا ہے اور کشف و الہام کے دروازے کھلتے ہیں چنانچہ آپ کے چند رویا ء و کشوف اور الهامات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔روياء و كشوف فرمایا " ایک دفعہ میں نے حضرت علی مرتضیٰ کو خواب یا کشف میں دیکھا میں نے آپ سے سوال کیا کہ حضرت ابو بکر اور آپ کی فضیلت کا مسئلہ دنیا میں بینچ دار ہو رہا ہے اس کا اصل کیا ہے؟ فرمایا۔انسان کی فضیلت موقوف ہے اس تعلق پر جو انسان کو اللہ تعالٰی سے ہے (اور) دلوں کے حالات کو علیم بذات الصدور کے سوا کون جانتا ہے ؟ ایک دفعہ آپ کو رویاء میں لا الہ الا اللہ کے یہ معنے سمجھائے گئے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی چیز کی حیثیت مستقل نہیں۔فرمایا۔میں نے ایک بار ملک کو دیکھا ہے وہ انسان کی شکل میں متشکل تھا۔قرآن مجید میں ہاروت ماروت کا نام بھی ہے۔جس کو میں نے دیکھا ہے۔اس کا نام محی الدین تھا۔فرمایا " مجھے ایک دفعہ خواب آیا کہ آدھ پیالہ دودھ کا ہے اور میرے ایک دوست نے جو مجھ سے ناراض تھے۔اسے پی لیا۔میں بخاری شریف پڑھایا کرتا تھا۔نصف باقی تھا کہ وہ ایک روز آئے بعض باتیں جو پسند آئیں تو بے اختیار کہہ اٹھے کہ اب میں بھی پڑھو نگا۔چنانچہ باقی نصف بخاری انہوں نے مجھ سے پڑھی"۔فرمایا۔ایک دفعہ میں نے خواب دیکھا کہ مولوی عبد القدوس صاحب کی گود میں پانچ خوبصورت لڑکے ہیں جو میں نے اچک لئے ہیں میں نے پوچھا تمہار ا نام کیا ہے تو وہ بولے کھیعص "۔الوليد فرمایا۔میں نے مابعد الموت لوگوں سے ملاقات کی ہے اور ان سے جہنم و جنت کے حالات کی نسبت سوال کیا ہے " A پھر میں نے ایک اور نظارہ دیکھا۔اک شخص بہشت میں ہے جو فی عرفات امنون ہے “۔الخ