تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 377 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 377

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۷ فریسیا لکوٹ پیدا ہو گیا۔آپ 1912 ء میں اپنی کامیاب وکالت چھوڑ کر قادیان تشریف لے آئے۔حضرت خلیفتہ البیع الثانی ایدہ اللہ تعالی نے نظارت علیا کے علاوہ صیغہ بہشتی مقبرہ کے فرائض سپرد فرمائے۔اس منصب کو آپ نے آخری دم تک آنریری طور پر نہایت خوش اسلوبی سے نبھایا۔اکیرن کے معرکہ شدھی میں بھی آپ کو حصہ لینے کا شرف حاصل ہوا۔۱۹۲۴ء میں حج سے مشرف ہوئے۔آپ کا ایک علمی کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت سے کتب کے جامع ایڈ کسی تیار کئے۔۲ ستمبر ۱۹۲۶ء کو جب کہ آپ اپنے قابل فخر اور لائق فرزند چو ہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے ہاں لاہور میں مقیم تھے انتقال فرما گئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کو آپ کے وصال کی خبر ڈلہوزی میں ملی جس پر حضور قادیان تشریف لائے اور ۱۴ تمبر ۱۹۲۶ء کو جنازہ پڑھایا اور چارپائی کو اٹھا کر لحد تک لے گئے اور آپ کی نعش کو مقبرہ بہشتی کی خاک کے سپرد کیا۔بعد ازاں خود اپنے ہاتھ سے کتبہ کی عبارت تحریر فرمائی جس میں لکھا۔نہایت شریف الطبع ، سنجیدہ مزاج ، مخلص انسان تھے۔بہت جلد جلد اخلاص میں ترقی کی۔بڑی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔آخر میری تحریک پر وکالت کا پیشہ جس میں آپ بہت کامیاب تھے ترک کر کے دین کے کاموں کے لئے بقیہ زندگی وقف کی اور اعلیٰ اخلاص کے ساتھ جس میں خدا تعالٰی کے فضل سے ہمیشہ ترقی ہوتی گئی۔قادیان آبیٹھے۔اسی دوران میں حج بھی کیا۔میں نے انہیں ناظر اعلیٰ کا کام سپرد کیا تھا جسے انہوں نے نہایت محنت اور اخلاص سے پورا کیا۔اللہ تعالی کی رضا کے ساتھ میری خوشنودی اور احمدی بھائیوں کا فائدہ اور ترقی کو ہمیشہ مد نظر رکھا۔ساتھ کام کرنے کی وجہ سے میں نے دیکھا کہ نگاہ دور بین تھی۔باریک اشاروں کو سمجھتے اور ایسی نیک نیتی کے ساتھ کام کرتے کہ میرا دل محبت اور قدر کے جذبات سے بھر جاتا تھا اور آج تک ان کی یاد دل کو گرما دیتی ہے۔" (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب ” میری والدہ " از حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب الفضل ۷ / ستمبر ۱۹۲۶ء صفحہ ۱ - ۱۷۲ ستمبر ۱۹۲۶ء صفحہ ۵-۶-۱۲۔نومبر ۱۹۲۶ء صفحہ ۸-۱۹ ۱۹/ نومبر ۱۹۲۶ء صفحه ۸-۹) ۴۸ ولادت ۱۸۷۶ء۔مدرسہ احمدیہ کے قدیم اساتذہ میں سے تھے۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی بچوں کو پرائیوٹ ٹیوٹر کی حیثیت سے پڑھاتے رہے۔۲۱/ اکتوبر۱۹۴۹ء کو سب ربوہ میں لو ئنڈل سکول کی ابتداء ہوئی تو آپ اس کے سب سے پہلے ہیڈ ماسٹر بنے 14 اگست ۱۹۵۰ء کو حرکت قلب بند ہونے سے وفات پائی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ان کی وفات پر خطبہ جمعہ میں فرمایا " ماسٹر مولا بخش صاحب ان بزرگوں میں سے تھے جو اسنائی ہوتے ہیں۔باوجود اندھے ہو جانے کے ان کا پڑھانے کا شوق نہیں جاتا تھا جہاں بھی خدمت کا کوئی موقعہ نکلتا وہ اپنے آپ کو اس کے لئے پیش کر دیتے۔باوجود زور دینے کے میں نے دیکھا ہے کہ وہ پیسے نہیں لیتے تھے۔میری بچیوں کو بھی انہوں نے پڑھایا ہے مگر باوجود زور دینے کے انہوں نے پیسے نہیں لئے حالانکہ میں جانتا ہوں کہ ان کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔(از رساله اصحاب احمد جلد اول صفحه ۱ تا ۳) حضرت ماسٹر صاحب کے ایک فرزند مولوی عطاء الرحمن صاحب طالب تھے جو عرصہ دراز تک سلسلہ کے مرکزی اداروں میں تعلیمی خدمات بجالاتے رہے اور ۲۴/ ظہور / اگست ۱۳۴۲/۱۹۶۳ ہش کو انتقال کر گئے۔دوسرے فرزند مولوی عبد القادر صاحب ضیغم میں جو سالہا سال تک امریکہ میں مبلغ اسلام رہے اور اب نائب وکیل التبشیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔۴۹- وفات ۶ / جون ۱۹۴۴ء کئی سال تک اخبار " سن رائز " میں قلمی خدمات بجالائے۔ایک اچھی ملازمت آپ نے قومی خدمت کی خاطر ترک کر دی۔راجپال کے مقدمہ میں آپ نے مسلم آؤٹ لک " کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر بڑی جرات سے تبصرہ کیا جس پر آپ کو چھ ماہ قید کی سزادی گئی۔نہایت قانع بزرگ تھے اور مذہبی مسائل پر تقریر کرنے کا خاص سلیقہ اور جوش رکھتے تھے۔۵- صاحب کشف والہام تھے۔جب سے سیالکوٹ میں ضلع وار نظام قائم ہوا ہے وہ اپنے حلقہ میں میں اکیس جماعتوں کے امیر رہے۔خلافت ثانیہ کی بیعت میں آپ کی مسابقت سے دوسرے احباب کو بھی خلافت سے وابستہ ہونے کی توفیق ملی۔۳۱ دسمبر ۱۹۶۰ء کو انتقال فرمایا اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔۵۱ ولادت غالبا ۱۸۸۳ء دستی بیعت ۱۹۰۷ء۔وفات ۳۰ ظهور / اگست ۱۳۴۷/۱۹۹۸ش ۱۹۲۳ء میں جہاد ما کانہ میں شرکت کی۔تمبر ۱۹۳۵ء کے قریب ملازمت سے پنشن یاب ہو کر مستقل طور پر قادیان آگئے اور ۱۹۳۶ء سے ۱۹۵۰ء تک سلسلہ کے متعدد انتظامی اداروں میں خدمات بجا لاتے رہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو آپ سے بہت محبت تھی۔بہت دعا گو اور