تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 83
احمدیت۔جلد ۲ A* جدی بھائیوں کی طرف سے الدار کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار فیض قادر صاحب نے عرض کیا کہ حضور مہدی حسن تحصیل دار اور ان کے چند دوست چاہتے ہیں کہ آپ سے کچھ دریافت کریں۔اگر حضور اجازت دیں تو ان کو شام کو لے آئیں۔فرمایا۔ہاں بے شک ان کو بلا لو۔ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔واپس آکر مغرب اور عشاء دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھیں اور پھر مہدی حسن صاحب مع صاحب مرزا سر رشتہ دار ڈسٹرکٹ حج اور فیض الرحمن صاحب کلرک خزانہ اور ایک دو آدمیوں کے ساتھ آگئے " ( اس کے بعد حضرت نے اس موقع پر نہایت لطیف پر ایہ میں انہیں تبلیغ فرمائی) دو سمرے دن حضرت اقدس علی الصبح مراجعت فرمائے دارالامان ہوئے اور کوئی گیارہ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب بخیرت دار الامان پہنچ گئے۔" ||A ۱۶ جولائی کے بعد مقدمہ ۱۰ / اگست ۱۹۰۱ء پر ملتوی کیا گیا مقدمہ کا فیصلہ اور ہرم دیوار چنانچہ ۱۰ اگست کو مدعی علیہ کے دوسرے گواہ پیش ہوئے۔اور وکلاء کی بحث بھی ختم ہو گئی۔۱۲ / اگست کو فیصلہ کا دن تھا اس دن مرزا امام دین صاحب اور ان کے ساتھی بہت خوش تھے کہ آج ان کا مقدمہ خارج ہو جائے گا اور وہ بر ملا کہتے تھے کہ آج سے ہمارے لئے ہر ایک قسم کی ایذاء کا موقع ہاتھ آجائے گا اور بظا ہر صورت بھی یہی تھی کیونکہ ڈسٹرکٹ جج حضرت اقدس کا مخالف تھا۔اس کے علاوہ آپ کے وکیل محض سماعی شہادتوں سے کام لیتے رہے جو ایک جوڈیشل(Judicial) فیصلہ کے مقابل چنداں کوئی حیثیت نہ رکھتی تھیں اور بالکل بیچ تھیں۔پس اگر ڈسٹرکٹ جج مخالف نہ بھی ہوتا پھر بھی جب گورنمنٹ کے کاغذات اس زمین کا قبضہ مرزا امام دین کے متعلق بتا رہے تھے تو عدالت محض سنی سنائی باتوں کو کیا وقعت دے سکتی تھی۔بہر نوع جب فیصلہ کا وقت آیا تو آپ کے بھی مخالف دنگ رہ گئے کہ مقدمہ نے آنا نانا پلٹا کھایا اور ریج نے اپنی مخالفانہ ردش کے باوجود آپ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے دیوار گرانے اور سفید میدان میں کسی جدید تعمیر نہ کرنے کا روائی حکم دے دیا اور ساتھ ہی مرزا امام دین ( مدعی علیہ) پر اخراجات مقدمہ کے علاوہ ایک سو روپیہ بطور حرجانہ بھی ڈال دیا۔یه فوری انقلاب در اصل حضرت اقدس کی صداقت کا ایک خارق عادت نشان تھا کیونکہ ابتداء ہی سے حضور کو الہاما بتایا جا چکا تھا کہ قضاء و قدر کی چکی گردش میں آئے گی اور یکا یک پردہ غیب سے ایسے اسباب پیدا ہوں گے آپ فتحیاب ہوں گے۔یہ نشان کسی حیرت انگیز رنگ میں ظاہر ہوا حضور اس کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔ایسا اتفاق ہوا کہ اس دن ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین کو خیال آیا کہ پرانی مسل کا انڈکس دیکھنا چاہیے یعنی ضمیمہ جس میں ضروری احکام کا