تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 78 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 78

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۷۵ جدی بھائیوں کی طرف سے الدار کا محاصرہ اور مقدمہ دیو ڈرتے ہیں۔اور جب کوئی نیکی کرتے ہیں تو نیکی کے تمام باریک لوازم کو ادا کرتے ہیں۔سطحی طور پر نیکی نہیں کرتے اور نہ ناقص طور پر بلکہ اس کی عمیق در عمیق شاخوں کو بجالاتے ہیں اور کمال خوبی سے اس کو انجام دیتے ہیں۔سو انہیں کی خدا مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی پسندیدہ راہوں کے خادم ہوتے ہیں اور ان پر چلتے ہیں اور چلاتے ہیں۔اور پھر فرمایا کہ ہم نے احمد کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔پس قوم اس سے روگردان ہو گئی اور انہوں نے کہا کہ یہ تو کذاب ہے۔دنیا کے لالچ میں پڑا ہوا ہے۔یعنی ایسے ایسے جیلوں سے دنیا کمانا چاہتا ہے۔اور انہوں نے عدالتوں میں اس پر گواہیاں دیں تاکہ اس کو گرفتار کروا دیں۔اور وہ ایک تند سیلاب کی طرح جو اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے۔اس پر اپنے حملوں کے ساتھ گر رہے ہیں مگر وہ کہتا ہے کہ میرا پیارا مجھ سے بہت قریب ہے مگر مخالفوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔الہامات کے وقت حضور کی کیفیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ الہامات کے متعلق لکھتے ہیں۔”یہ الہام علیحدہ علیحدہ وقت کے نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں ہوئے مجھے یاد ہے کہ اس وقت سید فضل شاہ صاحب لاہوری برادر سید ناصر شاہ صاحب اوورسیر متعین بارہ مولہ کشمیر میرے پاؤں دبار ہا تھا اور دوپہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔میں نے سید صاحب کو کہا کہ یہ دیوار کے مقدمہ کی نسبت الہام ہے آپ جیسا جیسا یہ الہام ہوتا جائے لکھتے جائیں۔چنانچہ انہوں نے قلم دوات اور کاغذ۔لے لیا۔پس ایسا ہوا کہ ہر ایک دفعہ غنودگی کی حالت طاری ہو کر ایک ایک فقرہ وحی الہی کا جیسا کہ سنہ اللہ ہے زبان پر نازل ہو تا تھا اور جب ایک فقرہ ختم ہو جاتا تھا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور دو سرا فقرہ وحی الہی کا زبان پر جاری ہو تا تھا یہاں تک کہ کل وحی الہی نازل ہو کر سید فضل شاہ صاحب لاہوری کی قلم سے لکھی گئی اور اس میں تقسیم ہوئی کہ یہ اس دیوار کے متعلق ہے جو امام الدین نے کھینچی ہے جس کا مقدمہ عدالت میں دائر ہے۔اور یہ تقسیم ہوئی کہ انجام کار اس مقدمہ میں فتح ہو گی۔" سفر گوداسپور یہ تو خدائی الہامات تھے مگر بظاہر ان کا پورا ہو نا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔بہر حال اس نا امیدی کے عالم میں اور بظاہر سراسر مخالف حالات میں مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی پھر اسی رنگ سے کم و بیش ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا۔بالاخر ۱۵ / جولائی ۱۹۰۱ء کو فریق ثانی کی درخواست پر حضور کو گورداسپور کا سفر اختیار کرنا پڑا۔اس سفر کی تفصیل میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں۔