تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 61
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۸ " حقیقتہ المہدی " کی تصنیف و اشاعت د بیشتر مسجد اقصیٰ میں لئے گئے۔مگر بعض مدرسہ تعلیم الاسلام یا نواب محمد علی خان صاحب کے مکان واقع اندرون شہر) کے صحن میں بھی کھینچے گئے تھے۔B حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضور کے قلمی فوٹو بھی شائع ہوئے۔مثلا الحکم ۳۱/ جنوری ۱۹۰۴ء کی اشاعت میں پورے قد کا قلمی فوٹو چھپا۔حقیقتہ الوحی کے عربی حصہ الاستفتاء (۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء) میں حضور کی شبیہ مبارک کا خاکہ قلم سے نقل (TRACE) کر کے شائع ہوا۔فوٹو کی یورپ میں اشاعت اور تاثرات حضرت مسیح موعود کے فوٹو کی "دیوید آف ریلیجز "انگریزی (۱۹۰۲ء تا ۱۹۰۵ء) کے ذریعہ سے جب مغربی ممالک میں اشاعت ہوئی تو حضرت اقدس کی خدمت میں کئی لوگوں کی چٹھیاں آئیں کہ ہم نے آپ کی فوٹو غور سے دیکھی ہے علم فراست کی رو سے ہمیں یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ جس کی یہ فوٹو ہے وہ ہر گز کاذب نہیں۔ایک امریکی خاتون نے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ یہ فوٹو دیکھتی رہوں یہ تو بالکل یسوع مسیح کی طرح معلوم ہوتی ہے۔ایک اور قیافہ شناس لیڈی نے کہا کہ " یہ نبیوں کی سی صورت ہے " بعض بڑے بڑے لوگوں نے اسے دیکھ کر کہا کہ "is a Great Thinker Ho - یعنی یہ ایک عظیم مفکر ہے۔علم قیافہ کے ایک اور انگریز ماہر کے سامنے جب حضور کی فوٹور کبھی گئی تو وہ بڑے غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ کسی اسرائیلم پیغمبر کی فوٹو ہے۔ایک دوسرے انگریز نجومی نے بھی یہی کہا کہ یہ شبیہ تو خدا کے کسی نبی کی ہے۔IA فوٹو کی عام اشاعت کی ممانعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصویر کی عام اشاعت کو جو تبلیغی ضرورت کے بغیر محض نمائش کے طور پر ہو سخت ناپسند فرماتے تھے کہ اس طرح رفتہ رفتہ بدعات پیدا ہو جاتی ہیں اور شرک تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔چنانچہ حضرت شیخ حبیب الرحمن صاحب (حاجی پورہ) کا بیان ہے کہ "جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سب سے پہلا فوٹو لیا گیا تھا۔میں نے وہ فوٹو خریدا اور اس پر فریم اور شیشہ بھی لگوایا۔جب میں قادیان گیا اور حسب دستور تنہائی میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا کہ میں نے حضور کا فوٹو خریدا ہے۔اگر حضور کی اجازت ہو تو اپنی نشست گاہ میں دیوار پر لگایا جاوے حضور نے فرمایا نہیں ہمارا اس فوٹو سے ہر گز یہ منشاء نہ تھا کہ لوگ خریدیں اور اپنے پاس رکھیں۔ہم نے صرف ولایت بھیجنے کی غرض سے یہ فوٹو کھینچایا تھا۔میں نے عرض کیا کہ اب میں اس کو خرید چکا ہوں اس کو کیا کیا جائے۔فرمایا کہ کسی صندوق میں ڈال چھوڑو ایسی جگہ نہ رکھو کہ لوگ آئیں اور دیکھیں۔اس طرح تصویروں کی پرستش ہو جاتی تھی۔14