تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 56
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۳ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی ہیڈ کلرک رہے (احکم ۲۱ اپریل ۱۹۲۹ء) آپ نے ۱۰مئی ۱۹۴۵ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔مالک اللہ بخش سٹیم پریس قادیان " ولادت ۱۸۸۷ ء وفات ۶ اکتوبر۷ ۹۵ ءور بوہ میں صحابہ کے قطعہ خاص میں مدفون ہیں۔۴۷- ولادت قریباً ۶۱۸۸۲- زیارت قادیان ۱۸۹۸ء وفات ۱۹/ نومبر ۱۹۶۸ء۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۸۴ء میں انبالہ چھاؤنی سے پٹیالہ کے رستہ سنور تشریف لے گئے تو آپ کے والد مولوی محمد موسیٰ صاحب بھی استقبال کے لئے حاضر تھے اور آپ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔آپ بہت دعائیں کرنے والے بزرگ تھے۔سلسلہ کے مالی جہاد میں سرگرم اور نمایاں حصہ یا کرتے تھے اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کو خاص تعلق محبت و عقیدت تھا۔سالہا سال تک حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کی اراضی ناصر آباد کے کامیاب مینجر رہے۔چنانچہ حضور نے ۱۳۳۵ھ کی مجلس مشاورت میں فرمایا اس سال تو صدر انجمن احمدیہ کو کھاتا رہا لیکن مجھے نفع آیا ہے یہ محض منشی قدرت اللہ صاحب سنوری کے سجدوں کی برکت تھی۔" (رپورٹ صفحہ ۶۵-۲۶) آپ کی خود نوشت سوانح زندگی " قبلی قدرت " کے نام سے شائع شدہ ہے -۴۸- الحکم ۲۰-۲۷ جون ۱۸۹۸ء صفحہ سے پر اسماء مبایعین بھی درج ہیں الحکم ۲۰ - ۲۷ جون ۱۸۹۸ء سے پتہ چلتا ہے کہ بازی پورہ اور اس کے نواح کا ایک اجتماع صحن خانقاہ میں ہوا تھا جس میں شیخ غلام رسول صاحب، مولوی فضل حق صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب نے تقریریں کیں جس سے متاثر ہو کر اسی ۸۰ افراد داخل احمدیت ہو گئے۔لوگوں نے حسب اجازت راجہ صاحب موصوف کے ہاتھ پر حضرت مسیح موعود کی بیعت کی۔راجہ صاحب کے تفصیلی حالات حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے قلم سے الحکم ۷ / ستمبر ۱۹۳۳ء صفحہ ۷ / ۸ میں شائع شدہ ہیں۔( تاریخ وفات ۱۴ / اپریل ۶۱۹۰۴ )