تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 628
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۹۳ علیہ مبارک خصائل و شمائل اور اخلاق عالیہ موعود کھڑے تھے۔ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین تھی۔میں حضور کو دیکھ کر گھبرا گیا مگر حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا کہیں سے دودھ آ گیا تھا میں نے کہا آپ کو دے آؤں۔آپ یہ دودھ پی لیں آپ کو شاید دودھ کی عادت ہوگی۔سیٹھی صاحب کہا کرتے تھے کہ میری آنکھوں میں آنسو اٹھ آئے کہ سبحان اللہ کیا اخلاق ہیں ؟ یہ خدا کا برگزیدہ صیح اپنے ادنیٰ خادموں تک کی خدمت اور دلداری میں کتنی لذت پاتا ہے اور کتنی تکلیف اٹھاتا ہے !! حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا ذکر اوپر آچکا ہے وہ بہت ممتاز صحابہ میں سے تھے اور انہیں حضرت مسیح موعود کی قریب کی صحبت کا بہت لمبا موقعہ میسر آیا تھا وہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ گرمی کا موسم تھا اور حضرت مسیح موعود کے اہل خانہ لدھیانہ گئے ہوئے تھے میں حضور کو ملنے اندرون خانہ گیا۔کمرہ نیا نیا بنا تھا اور ٹھنڈا تھا۔میں ایک چارپائی پر ذرا لیٹ گیا اور مجھے نیند آگئی۔حضور اس وقت کچھ تصنیف فرماتے ہوئے ٹہل رہے تھے۔میں چونک کر جاگا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود میری چارپائی کے پاس نیچے فرش پر لیٹے ہوئے تھے۔میں گھرا کر ادب سے کھڑا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود نے بڑی محبت سے پوچھا۔مولوی صاب ! آپ کیوں اٹھ بیٹھے ؟ میں نے عرض کیا حضور نیچے لیٹے ہوئے ہیں میں اوپر کیسے سو سکتا ہوں؟ مسکرا کر فرمایا۔۔آپ بے تکلفی سے لیٹے رہیں میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔بچے شور کرتے تھے تو میں انہیں روکتا تھا تا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آئے۔اللہ اللہ۔شفقت کا کیا عالم تھا !! ؟ دلداری اور غریب نوازی کا ایک اور واقعہ بھی بہت پیارا اور نہایت ایمان افروز ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک قادیان کی اوپر کی چھت پر چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھانے کے انتظار میں تشریف فرما تھے۔اس وقت ایک احمدی دوست میاں نظام دین صاحب ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلہ پر بیٹھے تھے۔اتنے میں چند معزز مہمان آکر حضور کے قریب بیٹھتے گئے اور ان کی وجہ سے ہر دفعہ میاں نظام دین کو پرے ہٹنا پڑا۔حتی کہ وہ ہٹتے ہٹتے جو تیوں کی جگہ پر پہنچ گئے۔اتنے میں کھانا آیا تو حضور نے جو یہ سارا نظام دیکھ رہے تھے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھائیں اور میاں نظام دین سے مخاطب ہو کر فرمایا " آؤ میاں نظام دین ہم اور آپ اندر بیٹھ کر کھانا کھا ئیں۔" یہ فرما کر حضور مسجد کے ساتھ والی کوٹھڑی میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام دین نے کو ٹھڑی کے اندر اکٹھے بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں کھانا کھایا۔اس وقت میاں نظام دین خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور جو لوگ میاں نظام دین کو عملاً پرے دھکیل کر حضرت مسیح موعود کے قریب بیٹھ