تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 627 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 627

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۹۲ حلیہ مبارک ، خصائل و شمائل س و شمائل اور اخلاق عالیہ بعض بیرونی دوستوں کو بھی بلا کر اپنی خوشی میں شریک فرمایا تو اس وقت آپ نے اس آئین میں اپنے دوستوں کے آنے کا بھی ذکر کیا اور پھر ان کے واپس جانے کا خیال کر کے اپنے غم کا بھی اظہار فرمایا۔چنانچہ فرماتے ہیں۔۔مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہونچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سبحان من برانی دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے، آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی اوائل میں آپ کا قاعدہ تھا کہ آپ اپنے دوستوں اور مہمانوں کے ساتھ مل کر مکان کے مردانہ حصہ میں کھانا تناول فرمایا کرتے تھے اور یہ مجلس اس بے تکلفی کی ہوتی تھی اور ہر قسم کے موضوع پر ایسے غیر رسمی رنگ میں گفتگو کا سلسلہ رہتا تھا کہ گویا ظاہری کھانے کے ساتھ علمی اور روحانی کھانے کا بھی دستر خوان بچھ جاتا تھا۔ان موقعوں پر آپ ہر مہمان کا خود ذاتی طور پر خیال رکھتے اور اس بات کی نگرانی فرماتے کہ ہر شخص کے سامنے دستر خوان کی ہر چیز پہنچ جاوے۔عموماً ہر مہمان کے متعلق خود دریافت فرماتے تھے کہ اسے کسی خاص چیز مثلاً دودھ یا چائے پان وغیرہ کی عادت تو نہیں اور پھر حتی الوسع ہر اک کے لئے اس کی عادت کے مطابق ہر چیز مہیا فرماتے۔جب کوئی خاص دوست قادیان سے جانے لگتا تو آپ عموماً اس کی مشایعت کے لئے ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو میل تک اس کے ساتھ جاتے اور بڑی محبت اور عزت کے ساتھ رخصت کر کے واپس آتے تھے۔آپ کو یہ بھی خواہش رہتی تھی کہ جو دوست قادیان آئیں وہ حتی الواسیع آپ کے پاس آپ کے مکان کے ایک حصہ میں ہی قیام کریں اور فرمایا کرتے تھے کہ زندگی کا اعتبار نہیں جتنا عرصہ پاس رہنے کا موقعہ مل سکے غنیمت سمجھنا چاہیے۔اس طرح آپ کے مکان کا ہر حصہ گویا ایک مستقل مہمان خانہ بن گیا تھا اور کمرہ کمرہ مہمانوں میں بٹا رہتا تھا۔مگر جگہ کی تنگی کے باوجود آپ اس طرح دوستوں کے ساتھ مل کر رہنے میں انتہائی راحت پاتے تھے۔ایک بہت شریف اور غریب مزاج احمدی سیمی غلام نبی صاحب ہوتے تھے جو رہنے والے تو چکوال کے تھے مگر راولپنڈی میں دوکان کیا کرتے تھے انہوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے لئے قادیان آیا۔سمردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہو رہی تھی۔میں شام کے وقت قادیان پہنچا۔رات کو جب میں کھانا کھا کر لیٹ گیا اور کافی رات گزر گئی اور قریباً بارہ بجے کا وقت ہو گیا تو کسی نے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دی میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت مسیح