تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 626 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 626

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۹۱ حلیہ مبارک ، خصائل : شمائل او ر اخلاق عالیه ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ جن دنوں حضرت مسیح موعود اپنی کتاب ” آئینہ کمالات اسلام کا عربی لکھ رہے تھے۔حضور نے مولوی نور الدین صاحب خلیفہ (اول) کو ایک بڑا دو ورقہ اس زیر تصنیف کتاب کے مسودہ کا اس غرض سے دیا کہ فارسی میں ترجمہ کرنے کے لئے مجھے پہنچا دیا جائے وہ ایسا مضمون تھا کہ اس خداداد فصاحت و بلاغت پر حضرت کو ناز تھا۔مگر مولوی صاحب سے یہ دو ورقہ کہیں گر گیا۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے ہر روز کا تازہ عربی مسودہ فارسی ترجمہ کے لئے ارسال فرمایا کرتے تھے اس لئے اس دن غیر معمولی دیر ہونے پر مجھے طبعا فکر پیدا ہوا اور میں نے مولوی نور الدین صاحب سے ذکر کیا کہ آج حضرت کی طرف سے مضمون نہیں آیا اور کاتب سر پر کھڑا ہے اور دیر ہو رہی ہے معلوم نہیں کیا بات ہے۔یہ الفاظ میرے منہ سے نکلنے تھے کہ مولوی نورالدین صاحب کا رنگ فق ہو گیا۔کیونکہ دو ورقہ مولوی صاحب سے کہیں گر گیا تھا۔بے حد تلاش کی مگر مضمون نہ ملا اور مولوی صاحب سخت پریشان تھے۔حضرت مسیح موعود کو اطلاع ہوئی تو حسب معمول ہشاش بشاش مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے اور خفا ہونا یا گبھراہٹ کا اظہار کرنا تو درکنار الٹا اپنی طرف سے معذرت فرمانے لگے کہ مولوی صاحب کو مسودہ کے گم ہونے سے ناحق تشویش ہوئی مجھے مولوی صاحب کی تکلیف کی وجہ سے بہت افسوس ہے۔میرا تو یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے گمشدہ کاغذ سے بہتر مضمون لکھنے کی توفیق عطا فرما دے گا۔" اس لطیف واقعہ سے ایک طرف حضرت مسیح موعود کے غیر معمولی جذبہ شفقت اور دوسری طرف اپنے آسمانی آقا کی نصرت پر غیر معمولی توکل پر خاص روشنی پڑتی ہے۔غلطی حضرت مولوی صاحب سے ہوئی تھی کہ ایک قیمتی مسودہ کی پوری حفاظت نہیں کی اور اسے ضائع کر دیا مگر حضرت مسیح موعود کی شفقت کا یہ مقام ہے کہ خود پریشان ہوئے جاتے ہیں اور معذرت فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کو مسودہ گم ہونے سے اتنی تکلیف ہوئی ہے۔اور پھر تو کل کا یہ مقام ہے کہ ایک مضمون کی فصاحت و بلاغت اور اس کے معنوی محاسن پر ناز ہونے کے باوجود اس کے کھوئے جانے پر کس استغناء کے رنگ میں فرماتے ہیں کہ کوئی فکر کی بات نہیں خدا ہمیں اس سے بہتر مضمون عطا فرمادے گا!! یہ شفقت اور توکل اور یہ تحمل خدا کے بندوں کے سوا کسی اور میں پایا جانا ممکن نہیں ہے۔جب کوئی دوست کچھ عرصہ کی جدائی کے بعد حضرت مسیح موعود کو ملتا تو اسے دیکھ کر آپ کا چہرہ یوں شگفتہ ہو جاتا تھا جیسے کہ ایک بند گلی اچانک پھول کی صورت میں کھل جائے اور دوستوں کے رخصت ہونے پر آپ کے دل کو از حد صدمہ پہنچتا تھا۔ایک دفعہ جب آپ نے اپنے بڑے فرزند حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے قرآن شریف ختم کرنے پر آمین لکھی اور اس تقریب پر