تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 50
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۰ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی صاحب بٹالوی اور ان کے ہمنو اعلماء سے کہتے آرہے تھے کہ ”میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کرلیں کہ تکفیر اور بد زبانی سے منہ بند رکھیں"۔مگریہ حضرات اس طرف آنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے مگر بالا خر عدالت کے سامنے ان کو تکفیر و تکذیب سے دستبردار ہونا پڑا۔اور جیسا کہ پیشگوئی میں بتایا گیا تھا ظالم فریق کے ہاتھ آئینی شکنجہ میں جکڑ دیئے گئے اور ان کا فتویٰ تکفیر جس کے لئے انہوں نے پشاور سے بنارس تک قدم فرسائی کی تھی خود انسی کے ہاتھوں چاک چاک ہو گیا۔۱۸۹۸ء کے بعض صحابہ اس سال بیعت کرنے والے بعض مشہور صحابہ کے نام یہ ہیں۔مولوی فخر الدین صاحب گھوگھیات ٹ ماسٹر عبدالرؤف صاحب بھیروی - R چوہدری اللہ بخش صاحب مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری - ۳/ جون ۱۸۹۸ء کو یاڑی پورہ (کشمیر) اور اس کے نواح میں اسی افراد داخل احمد بیت ہوئے اور وہاں ایک مضبوط جماعت قائم ہو گئی۔ان مبایعین میں یاڑی پورہ کے رئیس اعظم راجہ عطاء اللہ خاں کے افراد خاندان اور اہل خانہ بھی تھے ا راجہ صاحب موصوف اس سے قبل ہی حضرت اقدس کی دستی بیعت کر چکے تھے۔اب چونکہ قادیان سے اخبار "الحکم " کا اجراء ہو چکا تھا اس لئے بیعت کرنے والوں کے نام بھی گا ہے گا ہے اس میں شائع کئے جانے لگے اور نئے حلقہ بگوش احمدیت ہونے والے بزرگوں کی بیعت کا ایک مستند ریکارڈ تیار ہونا شروع ہو گیا۔