تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 625
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۹۰ حلیہ مبارک اخصائل و شمائل اور اخلاق عالیه پر آکر انہیں ٹھوکر لگ گئی اور انہوں نے نہ صرف دوستی کے رشتہ کو تو ڑ دیا بلکہ حضرت مسیح موعود کے اشد ترین مخالفوں میں سے ہو گئے اور آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ لگانے میں سب سے پہل کی۔مگر حضرت مسیح موعود کے دل میں آخر وقت تک ان کی دوستی کی یاد زندہ رہی۔اور گو آپ نے خدا کی خاطر ان سے قطع تعلق کر لیا اور ان کی فتنہ انگیزیوں کے ازالہ کے لئے ان کے اعتراضوں کے جواب میں زور دار مضامین بھی لکھے مگر ان کی دوستی کے زمانہ کو کبھی نہیں بھولے اور ان کے ساتھ قطع تعلق ہو جانے کو ہمیشہ تلخی کے ساتھ یاد رکھا۔چنانچہ اپنے آخری زمانہ کے اشعار میں مولوی محمد حسین صاحب کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔۔قَطَعْتَ وَدَادًا قَدْ غَرَسْنَاءُ فِي الصَّبَا وَلَيْسَ فَوَادِي فِي الْوَدَادِ يُقَصِرُ یعنی تو نے اس محبت کے درخت کو کاٹ دیا جو ہم دونوں نے مل کر بچپن میں لگایا تھا۔مگر میرا دل محبت کے معاملہ میں کو تاہی کرنے والا نہیں ہے۔دوستی اور وفاداری کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دل حقیقتہ " بے نظیر جذبات کا حامل تھا چنانچہ آپ کے مقرب حواری حضرت مولوی عبد الکریم صاحب " روایت کرتے ہیں کہ۔حضرت مسیح موعود نے ایک دن فرمایا۔میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص عمد دوستی باندھے مجھے اس کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ شخص کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں اس سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لاچار ہیں۔ورنہ ہمارا نہ ہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں میں سے کسی نے شراب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو تو ہم بلا خوف لو مه لا ئم اسے اٹھا کر لے آئیں گے۔فرمایا۔عہد دوستی بڑا قیمتی جو ہر ہے اس کو آسانی سے ضائع نہیں کر دینا چاہیے اور دوستوں کی طرف سے کیسی ہی ناگواربات پیش آئے اس پر اغماض اور تحمل کا طریق اختیار کرنا چاہیے۔" اس روایت کے متعلق حضرت مولوی شیر علی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نہایت مخلص صحابی تھے بیان کرتے تھے کہ اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود نے یہ بھی فرمایا تھا اگر ایسا شخص شراب میں بے ہوش پڑا ہو تو ہم اسے اٹھا کر لے آئیں گے اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کریں گے اور جب وہ ہوش میں آنے لگے گا تو اس کے پاس سے اٹھ کر چلے جائیں گے تاکہ وہ ہمیں |12 دیکھ کر شرمندہ نہ ہو۔اپنے دوستوں اور خادموں کے لئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجسم عفو و شفقت تھے۔چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اپنی تصنیف ”سیرت مسیح موعود میں لکھتے ہیں۔