تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 614
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ 069 حلیمہ مینا شمائل اور اخلاقی عالیه شخص میں نہیں دیکھا اور مرزا سلطان احمد صاحب نے اس بات کو بار بار دہرایا۔ایک دفعہ بالکل گھریلو ماحول کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود کی طبیعت کچھ نا ساز تھی اور آپ گھر میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا اور حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی پاس بیٹھے تھے کہ حج کا ذکر شروع ہو گیا۔حضرت نانا جان نے کوئی ایسی بات کہی کہ اب تو حج کے لئے سفر اور رستے وغیرہ کی سہولت پیدا ہو رہی ہے حج کو چلنا چاہیے۔اس وقت زیارت حرمین شریفین کے تصور میں حضرت مسیح موعود کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور آپ اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔حضرت نانا جان کی بات سن کر فرمایا " یہ تو ٹھیک ہے اور ہماری بھی دلی خواہش ہے مگر میں سوچا کرتا ہوں کہ کیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کو دیکھ بھی سکوں گا۔" یہ ایک خالصتہ گھریلو ماحول کی بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں اس اتھاہ سمندر کی طغیانی بریں کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں جو عشق رسول کے متعلق حضرت مسیح موعود کے قلب صافی میں موجزن تھیں۔حج کی کس بچے مسلمان کو خواہش نہیں مگر ذرا اس شخص کی بے پایاں محبت کا اندازہ لگاؤ جس کی روح حج کے تصور میں پروانہ وار رسول پاک (فداہ نفسی) کے مزار پر پہنچ جاتی ہے اور وہاں اس کی آنکھیں اس نظارہ کی تاب نہ لا کر بند ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔رسول پاک ﷺ کے ساتھ اسی عشق کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کی آل و اولاد اور آپ کے صحابہ کے ساتھی بھی بے پناہ محبت تھی۔چنانچہ ایک دفعہ جب محرم کا مہینہ تھا اور حضرت مسیح موعود اپنے باغ میں ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔آپ نے مبارکہ بیگم سلمها اور مبارک احمد مرحوم کو جو سب بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا ” آؤ میں تمہیں محرم کی کہانی سناؤں" پھر آپ نے بڑے دردانگیز انداز میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعات سنائے۔آپ یہ واقعات سناتے جاتے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ اپنی انگلیوں کے پوروں سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔اس درد ناک کہانی کو ختم کرنے کے بعد آپ نے بڑے کرب کے ساتھ فرمایا " یزید پلید نے یہ ظلم ہمارے نبی کریم" کے نواسے پر کروایا مگر خدا نے بھی ان ظالموں کو بہت جلد اپنے عذاب میں پکڑ لیا۔اس وقت آپ پر عجیب کیفیت طاری تھی اور اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ کی المناک شہادت کے تصور سے آپ کا دل بہت بے چین ہو رہا تھا اور یہ سب کچھ رسول پاک کے عشق کی وجہ سے تھا۔