تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 613
تاریخ احمدیت - جلد ۲ ۵۷۸ علیہ مبارک خصائل ، شمائل اور اخلاق عالیہ اب تیرے بعد جس شخص پر چاہے موت آجارے مجھے اس کی پروا نہیں کیونکہ مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہو گئی۔رادی بیان کرتا ہے کہ جب آپ کے ایک مخلص رفیق نے آپ کو اس رقت کی حالت میں دیکھا تو گھبرا کر پوچھا کہ حضرت ایہ کیا معاملہ ہے ؟ " آپ نے فرمایا " کچھ نہیں میں اس وقت یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا۔قادیان میں ایک صاحب محمد عبد اللہ ہوتے تھے جنہیں لوگ پروفیسر کہہ کر پکارتے تھے۔وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن بہت مخلص تھے مگر جوش اور غصے میں بعض اوقات اپنا توازن کھو بیٹھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں کسی نے بیان کیا کہ فلاں مخالف نے حضور کے متعلق فلاں جگہ بڑی سخت زبانی سے کام لیا ہے اور حضور کو گالیاں دی ہیں۔پروفیسر صاحب طیش میں آکر بولے کہ اگر میں ہو تا تو اس کا سر پھوڑ دیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیساختہ فرمایا " نہیں نہیں۔ایسا نہیں چاہئیے۔ہماری تعلیم صبر اور نرمی کی ہے۔پروفیسر صاحب اس وقت غصے میں آپے سے باہر ہو رہے تھے۔جوش کے ساتھ بولے واہ صاحب واہ ! یہ کیا بات ہے۔آپ کے پیر (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو کوئی برا بھلا کے تو آپ فور امباہلہ کے ذریعہ اسے جہنم تک پہنچانے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر ہمیں یہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کو ہمارے سامنے گالی دے تو ہم صبر کریں! پروفیسر صاحب کی یہ غلطی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ کر صبر کس نے کیا ہے ؟ اور کس نے کرنا ہے ؟ مگر اس چھوٹے سے واقعہ میں عشق رسول اور غیرت ناموس رسول کی وہ جھلک نظر آتی ہے جس کی مثال کم ملے گی۔خان بهادر مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے بڑے لڑکے تھے جو ڈپٹی کمشنر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے اور دنیا کا بڑا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی بھر حضور کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے گو بعد میں انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے زمانہ میں بیعت کر لی۔بہر حال خان بہادر مرز ا سلطان احمد صاحب کے غیر احمدی ہونے کے زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے فرمایا ” ایک بات میں نے والد صاحب (یعنی حضرت مسیح موعود) میں خاص طور پر دیکھی ہے وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف والد صاحب ذرای بات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اگر کوئی شخص آنحضرت کی شان کے خلاف ذراسی بات بھی کہتا تھا تو والد صاحب کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور غصے سے آنکھیں متغیر ہونے لگتی تھیں اور فورا ایسی مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم سے تو والد صاحب کو عشق تھا ایسا عشق میں نے کسی