تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 612 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 612

تاریخ احمدیت جلد ۲ حلیہ مبارک ، خصائل و شمائل اور اخلاق عالیه کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے۔ایسا ہی میں اس کلام میں شک نہیں کر سکتا جو خداتعالی کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر آنحضرت ا کے ساتھ اپنی محبت و عشق کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم شار کوچه آل محمد است دیدم بعین قلب شنیدم بگوش ہوش در هر مکان ندائے جمال محمد است یعنی میرے جان و دل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن خداداد پر قربان ہیں۔اور میں آپ کے آل وعیال کے کوچہ کی خاک پر نثار ہوں میں نے اپنے دل کی آنکھ سے دیکھا اور ہوش کے کانوں سے سنا ہے کہ ہر کون و مکاں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال کی ندا آرہی ہے۔پھر فرماتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمد محترم جانم فدا شود بره دین مصطفی گر کفر این بود بخدا سخت کافرم اینست کام دل اگر ایک میرم A آید یعنی خدا سے اتر کر میں محمد ﷺ کے عشق کی شراب سے متوالا ہو رہا ہوں۔اور اگر یہ بات کفر میں داخل ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔میرے دل کا واحد مقصد یہ ہے کہ میری جان محمد کے دین کے راستے میں قربان ہو جائے۔خدا کرے کہ مجھے یہ مقصد حاصل ہو جائے۔پھر فرماتے ہیں۔وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے۔اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ره دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا کی ہے آنحضرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی یہ والہانہ محبت محض کاغذی یا نمائشی محبت نہیں تھی بلکہ آپ کے ہر قول و فعل اور ہر حرکت و سکون میں اس کی ایک زندہ اور زبردست جھلک نظر آتی تھی۔ایک دفعہ آپ علیحدگی میں ملتے ہوئے آنحضرت ا کے درباری شاعر حسان بن ثابت کا یہ ﷺ شاعرحسان شعر تلاوت فرمارہے تھے اور ساتھ ساتھ آپ کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے جا رہے تھے۔كُنتَ السَّوَادَ لِنَا ظِرِى فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتَ أَحَاذِرُ یعنی اے محمد ﷺ تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس تیری وفات سے میری آنکھ اندھی ہو گئی ہے۔سو