تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 611
تاریخ احمدیت جلد ۲ 024 حلیہ مبارک ، خصائل وشمائل اور اخلاق عالیہ تھا۔پچھتر سال کی عمر پائی مگر کمر میں غم نہیں آیا اور نہ ہی رفتار میں فرق پڑا۔دور کی نظر ابتداء سے کمزور تھی مگر پڑھنے کی نظر آخر تک اچھی رہی اور یوم وصال تک تصنیف کے کام میں مصروف رہے۔کہتے ہیں ابتداء میں جسم زیادہ ہلکا تھا مگر آخر عمر کسی قدر بھاری ہو گیا تھا۔آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے یا یونہی بلا ضرورت ادھر ادھر نظر اٹھانے کی عادت بالکل نہیں تھی بلکہ اکثر اوقات آنکھیں نیم بند اور نیچے کی طرف جھکی رہتی تھیں۔گفتگو کا انداز یہ تھا کہ ابتداء میں آہستہ آہستہ کلام شروع فرماتے تھے مگر پھر حسب حالات اور حسب تقاضائے وقت آواز بلند ہوتی جاتی تھی۔چہرہ کی جلد نرم تھی اور جذبات کا اثر نور ظاہر ہونے لگتا ہے۔لباس ہمیشہ پرانی ہندوستانی وضع کا پہنتے تھے یعنی عموماً بند گلے کا کوٹ یا جبہ۔دیسی کاٹ کا کرتہ یا قمیص اور معروف شرعی ساخت کا پاجامہ جو آخری میں عمر میں عمو با گرم ہو تا تھا۔جو تا ہمیشہ دیسی پہنا کرتے تھے اور ہاتھ میں عصا ر کھنے کی عادت تھی۔سر پر اکثر سفید ململ کی پگڑی باندھتے تھے جس کے نیچے عموما نرم قسم کی رومی ٹوپی ہوتی تھی۔کھانے میں نہایت درجہ سادہ مزاج تھے اور کسی چیز سے شغف نہیں تھا بلکہ جو چیز بھی میسر آتی تھی ہے تکلف تناول فرماتے تھے اور عموماً سادہ غذا کو پسند فرماتے تھے۔غذا بہت کم تھی اور جسم اس بات کا عادی تھا کہ ہر قسم کی مشقت برداشت کر سکے۔اپنے خدا داد مشن کے متعلق کامل یقین جہاں تک ان اخلاق کا سوال ہے جو دین اور اور آنحضرت کے ساتھ بے نظیر محبت ایمان سے تعلق رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود میں دو خلق خاص طور پر نمایاں نظر آتے تھے۔اول اپنے خدا داد مشن پر کامل یقین دو سرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بینظیر عشق و محبت۔یہ دو اوصاف آپ کے اندر اس کمال کو پہنچے ہوئے تھے کہ آپ کے ہر قول و فعل اور ہر حرکت و سکون میں ان کا پر زور جلوہ نظر آتا تھا۔بسا اوقات اپنے خداداد مشن اور الہامات کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ مجھے ان کے متعلق ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ دنیا کی کسی چیز کے متعلق زیادہ سے زیادہ یقین ہو سکتا ہے۔اور بعض اوقات اپنی پیشگوئیوں کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ چونکہ وہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی ہیں اس لئے وہ ضرور پوری ہو کر رہیں گی اور اگر وہ پوری نہ ہوں تو میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ مجھے مفتری قرار دے کر بر سر عام پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا جائے تاکہ میرا وجود دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔ایک جگہ اپنے منشور کلام میں فرماتے ہیں۔یہ مکالمہ الیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کا فر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جاوے۔وہ کلام جو میرے پر نازل ہو ا یقینی اور قطعع ہے اور جیسا