تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 610
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۷۵ حلیہ مبارک خصائل و شمائل اور اخلاق عالیه حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حلیہ مبارک خصائل و شمائل اور اخلاق عالیہ حلیہ مبارک اور ذاتی خصائل حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک اعلیٰ درجہ کے مردانہ حسن کے مالک تھے اور فی الجملہ آپ کی شکل ایسی وجیہ اور دلکش تھی کہ دیکھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ایک دفعہ مردان کا ایک شخص قادیان آیا۔یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سخت ترین دشمن تھا۔اور اس نے قادیان آکر اپنی رہائش کے لئے مکان بھی احمد یہ محلہ سے باہر لیا۔ایک احمدی دوست نے اسے کہا کہ تم نے حضرت مسیح موعود کو دیکھنا پسند نہیں کیا مگر ہماری مسجد تو دیکھتے جاؤ۔وہ اس بات کے لئے رضامند ہو گیا مگر یہ شرط کی کہ مجھے ایسے وقت میں مسجد دکھاؤ کہ جب مرزا صاحب مسجد میں نہ ہوں۔چنانچہ یہ صاحب اسے ایسے وقت میں قادیان کی مسجد مبارک دکھانے کے لئے لے گئے کہ جب نماز کا وقت نہیں تھا اور مسجد خالی تھی مگر قدرت خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ادھر یہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور ادھر حضرت مسیح موعود کے مکان کی کھڑکی کھلی اور حضور کسی کام کے تعلق میں اچانک مسجد میں تشریف لے آئے۔جب اس شخص کی نظر حضرت مسیح موعود پر پڑی تو وہ حضور کا نورانی چہرہ دیکھتے ہی بیتاب ہو کر حضور کے قدموں میں اگر ا اور اسی وقت بیعت کرلی۔آپ کا چہرہ کتابی تھا اور رنگ سفیدی مائل گندمی تھا اور خد و خال نہایت متناسب تھے۔سر کے بال بہت ملائم اور سیدھے تھے مگر بالوں کے آخری حصہ میں کسی قدر خوبصورت خم پڑتا تھا۔داڑھی گھندار تھی مگر رخسار بالوں سے پاک تھے۔قد درمیانہ تھا اور جسم خوب سڈول اور مناسب تھا اور ہاتھ پاؤں بھرے بھرے اور ہڈی فراخ اور مضبوط تھی۔چلنے میں قدم بہت تیزی سے اٹھتا تھا مگر یہ تیزی ناگوار نہیں معلوم ہوتی تھی۔زبان بہت صاف تھی مگر کسی لفظ میں کبھی کبھی خفیف سی لکنت پائی جاتی تھی جو صرف ایک چوکس آدمی ہی محسوس کر سکتا