تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 595
560 اخبارات کے تبصرے خراج عقیدت پیش کیا۔ان اخبارات میں مسلمان ہندو اور عیسائی وغیرہ ہر قسم کے مکتبہ خیال کے لوگ شامل تھے۔ہندوستان کے جن مسلم اخبارات نے اس موقعہ پر تبصرے شائع کئے ان میں سے اخبار وکیل امرتسر البیان لکھنو - تہذیب نسواں لاہور زمیندار لاہور۔اخبار کرزن گزٹ دہلی۔البشیر ( اٹاوہ)۔یونین گزٹ بریلی میونسپل گزٹ لاہور۔علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ - صادق الاخبار ریواڑی۔خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اخبار "وکیل" امرتسر مسلمان اخبارات میں سب سے زور دار موثر اور حقیقت افروز ریویو اخبار "وکیل" امرتسر کا تھا جو مولانا ابو الکلام آزاد کے قلم ست نکالنا۔انہوں نے لکھا۔وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹیاں تھیں۔وہ شخص جو نہ ہی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔جو شور قیامت ہو کے خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔خالی ہاتھ دنیا سے اٹھ گیا۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جارے اور مٹانے کے لئے اس امتداد زمانہ کے حوالہ کر کے صبر کر لیا جائے۔ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔" " میرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دناری اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے ہار جو ر ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیمیافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جنرل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تاکہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا۔آیندہ بھی جاری رہے۔" " مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی تدرد عظمت آج