تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 589 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 589

تاریخ احمد بیت ، جلد ۲ ۵۵۴ سید نا حضرت مسیح موعود کار صال مبارک جنازه ، ترنمین اے ایل ایل بی وکیل ہائی کورٹ) ۴۔اس وقت کی مخالفت کی رو سے خواجہ حسن نظامی صاحب جیسے انسان بھی متاثر ہوئے۔انہوں نے لکھا۔جناب مرزا صاحب نے مسیحیت و مہدویت کا دعویٰ محض ایک حکمت پر کیا تھا۔کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ قوم میں کام کرنے کا جذبہ بغیر کسی حکیمانہ طرز کےپیدا ہونا نا ممکن ہے اس لئے انہوں نے اپنی نیت کو خیر کیبنیاد پر قائم کر کے ایسے دعوے کر دیے جن کی عدم واقعیت کو وہ خود اچھی طرح جانتے تھے۔اب ان کی نیت کا نتیجہ ظاہر ہو گیا اور کام چل نکلا تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک ہے اصل معاملے پر اڑے رہیں اور موجودہ وقت کی ضرورتوں میں مشغول ہو کر اسلامی خدمت نہ کریں۔ورنہ اندیشہ ہے کہ مرزا صاحب جیسے سمجھ دار اور منتظم مشخص کی عدم موجودگی کے سبب احمدی جماعت مخالفین کی شورش کو برداشت نہ کر سکے گی اور اس کا شیرازہ بکھر جائے گا۔" (پیسہ اخبار لاہور ۵ / جون ۱۹۰۸ء بعنوان " قادیانی مشن بحوالہ اختبار بد ر ۱۸/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۳ کالم ۳۵ نام مسٹر مسلم۔ملاحظہ ہو ڈائری حضرت نواب محمد علی خان صاحب ( اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۵۸۷-۵۸۸) بلعم ثانی صفحه مولفہ حضرت میر قاسم علی صاحب "مجدد اعظم " نیز حیات طیبہ " میں سرٹیفکیٹ دینے والے صاحب کا نام میجر سدر لینڈ پرنسپل میڈیکل کالج بتایا گیا ہے۔ڈاکٹر عبد الحمید صاحب چغتائی خلف اکبر حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی کا بیان ہے کہ ڈاکٹر سدر لینڈ دراصل معالج تھے اور ڈاکٹر سلیم صاحب سول سرجن لاہور مجاز تھے۔ڈاکٹر سدرلینڈ کی تصدیق پر یہ سرٹیفکیٹ دیا گیا تھا خط محرر ه ۱۹/ مارچ ۱۹۷۲م) ۳۶ ریویو آف ریلیجرہ اردو جولائی ۱۹۴۷ء صفحہ ۳۷ ۳۷۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کی رائے میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کے نچلے صحن میں ہوا تھا ( الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۵۸ء صفحه ۳ کالم نمبر ۲) مگر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی ڈائری (مشمولہ اصحاب احمد جلد نمبر ۲) کے مطابق خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں ! ۳۸ اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۷ ۵۸ - ۵۸۸ روایت حضرت نواب محمد علی خاں صاحب ۳۹- بدر ۲ / جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ کالم نمبر پر بعض نام ملاحظہ ہوں۔۴۰ یاران کهن صفحہ ۴۲۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی کتاب آئینہ صداقت صفحہ ۱۳ اسے بھی (جو جولائی ۱۹۰۸ ء میں شائع ہوئی) پتہ چلتا ہے کہ خواجہ یوسف شاہ صاحب رئیس و آنریری مجسٹریٹ اور مولانا ابو الکلام آزاد اسٹیشن تک آئے۔اسٹیشن سے مراد امرتسر کا اسٹیشن ہے یا لاہور کا۔اس کی وضاحت نہیں۔ام یہ آم کا درخت جو بٹالہ اسٹیشن سے باہر سیڑھیاں اتر کر مڑک کے ساتھ ہی غربی طرف واقع ہے اب تک موجود ہے (اصحاب احمد جلد نہم صفحہ ۱۹۶ ۱۹۷) طبع اول اپریل 1971ء ۴۲۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کی ڈیوٹی حضرت سیدۃ النساء ام المومنین کی رتھ کے ساتھ تھی۔حضرت سیدۃ النساء مالہ سے قادیان تک خاموشی کے ساتھ ذکر اذکار اور دعاؤں میں مشغول رہیں۔جب رتھ نہر کے پل پر سے گزر کر آگے بڑھی تو حضرت سیدہ نے ایک پر سوز اور رقت آمیز آواز سے فرمایا ”بھائی جی پچیس سال گزرے میری ڈولی اس سٹرک پر سے گزری تھی۔آج میں ہوگی کی حالت میں اس سڑک پر سے گزر رہی ہوں۔" رتھ مسجد فضل کے سامنے والی گلی سے ہوتی ہوئی سیدھی بڑے باغ میں پہنچی (اصحاب احمد جلد نہم صفحہ ۲۷۵-۲۷۶ والفضل ۲۳/ جنوری ۱۹۵۵ء صفحه ۱) ۴۳ - الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۵۸ء صفحه ۳ کالم نمبر ۲ ۴۴ اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۵۸۸ ۴۵ سیرت المہدی حصہ چہارم (غیر مطبوعہ) حضرت صاحبزادہ نے یہ پورا واقعہ امر تسر اسٹیشن پر حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کو خود سنایا تھا۔