تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 588 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 588

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ 553 حواشی کیونکہ تین ماه متواتر ۳۰ روز کے اوں تب یہ ہو سکتا ہے لیکن یہ غیر ممکن ہے۔اس رحمت ہم راہ کی کیم ربیع الاول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تاریخ قبول کرنے پر مجبور ہیں اور مولانا شیلی نے اسے قبول کیا ہے۔کہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے ایک واقعہ سے اس تاریخ کی تصدیق ہوتی ہے۔ابن ابی حاتم ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنمات روایت کرتے ہیں کہ سورہ بقرہ کی ۲۸ عدد کی آیت (و انفرا پر ماترجعون فيه الى الله کا نزول آخری حج کے روز ہو اتھا۔اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم A روز حیات رہے۔اب حساب لگا ہے اور ذی الحجہ سے کم ربیع الاول اللہ تک یعنی ۱۲۹۰۳۰۰۲۱-۸۱ اس میں نویں ذی الحجہ اور یکم ربیع الاول شمار کی گئی ہیں اور ذی الحجہ کا مہینہ ۲۹ روز کا مانا گیا ہے یہ بھی قبول کیا گیا ہے۔اب نعیسوی تاریخ ایک حساب سے نکالتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ نے ۱۰ھ کی ۲۹ شوال کو انتقال فرمایا تھا۔اس روز آفتاب گرہن میں تھا۔اب علم بہیت کے ذریعہ سے حساب کیا گیا ہے کہ یہ تاریخ ۱۳۲ ء کی نے ۲/ جنوری تھی۔۲۹ شوال ۱۰ ۲۷ جنوری ۶۳۲ ۲۰۰۰ شوال ۱۰ - ۲۸ جنوری ۶۳۲ م ذی قعده (۳۰ دن) - ۲۹/ جنوری است ۲۷ فروری ء ذی الحجہ (۲۹ دن ۲۸۰ / فروری سے ۲۷ / مارچ ۱۳۲ و لیپ کا سال) حرم (۳۰ رن) - ۲۸ مارچ ۳ ۲۷ / اپریل ۰۹۳۲ سفر ( ۲۹ رن) - ۲۷/ اپریل ست ۲۵ / مئی ۱۳۲، گیم ربیع الاول - ۲۶/ مئی ۶۶۳۲۔اس حساب سے اللہ کی کیم ربیع الاول پیر کے خان عیسوی حساب سے ۲۶۰۶۳۲ / مئی ہو تا ہے۔اکثر بیان کیا جاتا ہے کہ وہ تاریخ ۶۳۲ کی ۷ جون تھی یہ صحیح نہیں ہو سکتی۔" اخبار " جنگ "کراچی ۲۸/ تمبر ۱۹۵۸ء صفحه ۷ عید میلاد ایڈیشن) ۲۳ بر رلاد کمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۰ ۲۳ سلسلہ احمد پی سلمہ ۱۸۵- اتاب احمد جلد ۱۳ صفحه ۳۰۲-۳۰۳ مؤلفه ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے نا شہر احمد یہ بک ڈپو رہوں دسمبر ۹۷ -۲۵ روایات صحابہ جلد ۱۴ صفحه ۳۱۱) غیر مطبوعہ) ۰۲۶ الحكم ۱۲۸ مئی ۱۹۳۹ء مصالحها ۲۷- احکام جوبلی نمبر صلحه ۱۶ کالم نمبر ۲ ۰۲۸ شرح میدان حسان بن ثابت مطبوعہ مصر میں علی کی بجائے ملیک کا لفظ ہے۔خود حضرت مسیح، وعود نے حقیقتہ الومی اور ضمیمہ نزول اصسبیح میں جہاں یہ شعر لکھا ہے علیک ہی درج فرمایا ہے ۲۹ سیرت مسیح موعود علیہ السلام صفحه ۵۸ اسلحه ۱۵۱ از حضرت خلیفه امت ۰۳۰ پدر ۲۲ جون ۱۹۰۸ و سفحه نمبر ۳ و الحکام ضمیمه ۳۰ / تی ۱۹۰۸ء المی الثانی الفضل 10 جنوری ۱۹۹۳ء صفحہ ۵ا کالم نمبر ۲ در دایت حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبه به ظلها) ۳۲- احکام جوبلی نمبر صالحہ ا کالم - ۲ ۳۳ مدله احمد به صفحه ۱۸۵ اظہار امل فقه امر تسر نے ایک مضمون لکھا کہ " ہمیں تو امید تھی کہ احمدی مرزا صاحب کی لاش کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے"۔ریویو ان دیوار در ۱۹۰۸ء صلی ۲۸۴) مولوی ثناء اللہ صاحب نے ۱۳ / جون ۱۹۰۸ء کے اظہار کیل امرتسر میں لکھا ہم تے کوئی ہو جاتے تو ہم خدا لگتی کہنے کو تیار ہیں کہ مسلمانوں سے ہو سکے تو مرزا صاحب کی کل کتابیں سمندر میں نہیں کسی جلتے شور میں جھونک دیں۔اسی پر بس نہیں بلکہ آئندہ کوئی مسلم یا غیر مسلم مؤرخ تاریخ : ند یا تاریخ اسلام میں ان کا نام تک نہ لے۔" ( بحوالہ انتقام ۱۸/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۸ کالم تم میری اخبار سر جدید" نے کو نمائشی جنازے اور سوانگ وغیرہ حرکات کے خلاف نفرت کا اظہار کیا مگر ساتھ ہی " قادیانی تحریک کا خاتمہ " کے عنوان سے لکھا " قادیانی تحریک بلحاظ ایک مستقل دین کے جس کے لئے ایک ، سول امام اور موعود مودی آیا تھا الکل فنا ہو گئی۔اب صرف پیری مریدی اور عمل بالحدیث اور صوفیت ظاہر یت اور باطنیت کے درمیان ایک فرقہ رہ گیا ہے جس کے خصوص حالات روز نماز ملقور ہوتے جائیں گے۔" (رسالہ " حصر بہ یا " جون ۱۹۰۸ء صلحہ ۲۱۹۔ایک مٹر خواجہ نظام التقلین بی اے