تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 587 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 587

تاریخ احمد بیت ، جلد ۲ 552 حواشی -1 حواشی ۲۸ مئی ۱۹۰۸ ملی کالم نمبر ۳ فیلم ۱۳۰ مئی ۱۹۰۸ صفحہ کالم میرا مؤلف محمد داعظم نے نقل مکانی کی یہ وجہ لکھی ہے جو خلاف واقعہ ہے کہ " حضرت اقدس کی زوجہ محترمہ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں جو تشریف لے گئیں تو وہ مکان انہیں زیادہ پسند آیا " سلسلہ امر یہ مسلح ۷۸ امیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ان تذکره حواله پدر ۲/ جون ۱۹۰۸ء صلحه ۳ کالم نمبرز تذکرہ بھی اللہ ہے ہر ۲/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ کالم نمبر۔اس مصرعہ سے تاریخ وفات (۱۳۶۶) بھی نکلتی ہے سلسلہ احمدیہ صفحہ ۱۸۱ ۱۸۲ ہے۔سلسلہ احمدیہ صفحہ ۱۸۲ سيرة المهدي حصہ اول صلح طبع دوم اصحاب احمد جلد ۳ ( ڈائری نواب محمد علی صاحب اخبار الحکم ضمیمہ ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء دار سیرۃ المہدی حصہ اول صفحہ میں ضمیمہ الحکم ۱۳۰ مئی ۱۹۰۸ و بعنوان " وفات مسیح صفحه ۱۴ ا سلسلے اتے ہے مسلح ۱۸۳ الحکم ۱۲۸ گی ۱۹۳۹ در مسلح ۱۰ میرا ۱۴ سیرت المہدی حصہ اول طبع دوم) صلح ۹ - ۱۰ اصحاب احمد بلد دوم صفحہ ۵۸۶ - ۵۸۷ ۱۲ سلسلہ احمدیہ صفحه ۱۸۳ ندار سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۱۰ ۱۸ سیرت المحمدی حصہ اول صفحہ 10 ۱۰ 1 الحکم ۱۲۸ مئی ۱۹۳۹ء صفحہ ۱۰ کالم نمبر ۲ ۲۰ بدر ۲/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ نمبر ۴ کالم نمبر ۲ از ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب - ۰۲۱ سلسلہ احمد به صفحه ۸۴اد سیرت المهدی دهه اول صفحہ نمبرلا چنانچہ ڈاکٹر محمد عمید اللہ صاحب لکھتے ہیں:۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن میں اتفاق ہے کہ یہ دو شنہ یہ تھا لیکن تاریخ کے متعلق اختلافات ہیں۔راندی۔ابن سعد اور ابن اسحاق (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت نگار کی رائے میں یہ تاریخ تار ربیع الاول تھی۔ابن مقبہ ابو نعیم ایسٹ اور خوارزی کے مطابق یہ تاریخ کیم ربیع الاول تھی۔ابر تخلف کہیں اور سلیمان ایتی کی رائے میں یہ دو سر کی ربیع الاول ہے۔حافظ ابن حجر بخاری کی شرح میں اور حافظ معمل طاقی در سری تاریخ قبول کرتے ہیں۔مولانا شبلی نعمانی نے کیم ربیع الاول ثابت کی ہے۔یہ متفق علیہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حج 4 / ذی الحج کو ہو ا تھا اور وہ جمعہ کا روز تھا۔یہاں سے شروع کر سکے اللہ کی بارہ ربیع الاول تک حساب لگایا جائے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ بارہ ربیع الاول تک کس کس تاریخ میں پیر کار از آتا ہے ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ قمری مہینہ یاترہ سو دن کا ہو تا ہے یا ہارن کا۔ذیل میں ہم وادر ۳۹ ان کا ہر حساب شمار کریں گے۔ہم چھٹی ساتھ میں آٹھویں اور نویں تاریخوں کو نظر انداز کرتے ہیں کیو نکہ کسی نے ان تاریخوں کا ذکر نہیں کیا۔ہے۔ہم بارھویں تاریخ کو بھی نہیں لے سکتے ہیں کیونکہ کسی حساب سے اس تاریخ میں دو شنبہ نہیں ہو سکتا ہے۔دوسری ربیع الاول قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے متواتر ۳ ، ۲۹۰ روز کے ہونے یا ہیں۔مولانا سلیمان منصوری ۱۳ در ایچ النادل بناتے ہیں۔اگر چہ اس سے پہلے یہ تاریخ کسی نے نہیں بنائی ہے اس کو بھی نظر انداز کر دینا چاہتی ہے