تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 583 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 583

تاریخ احمدیت - جلد ۲ 548 سید نا حضرت کا موعود کار سال مبارک جنازه در تدفین میں نہیں۔حضرت ام المومنین نے حضور کی وفات کے وقت یا اس کے تھوڑی دیر بعد اپنے بچوں کو جمع کیا اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے انہیں نصیحت بھی فرمائی کہ :۔بچو گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے انہوں نے آسمان ر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔" P حضرت صاحبزادہ مرزا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا عمد بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالی نے اس موقعہ پر نہ صرف صبر کا عدیم النظیر نمونہ دکھایا بلکہ سب سے پہلا کام یہ کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا کہ : " اگر سارے لوگ بھی آپ کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا رہ جاؤں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروں گا اور کسی خالفت اور دشمن کی پرواہ نہیں کروں گا۔" ☑ شرفاء کی ہمدردی اور اشد مخالفین کا افسوسناک مظاہرہ ملک کے مسلم و غیر مسلم ملتے جو مسلک و عقیدہ کے اختلاف کے باوجود حضور کی روحانی عظمت ، شان اور علمی قابلیت کے دل سے معترف تھے انہوں نے آپ کی وفات پر اظہار ہمدردی کیا اور ہمدردی کے خطوط لکھے۔علاوہ ازیں ملکی پریس نے حضرت اقدس کی وفات پر نہایت عمدہ ریویو لکھے اور آپ کی وفات کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔مگر بعض مخالفین نے اس موقعہ پر انتہائی افسوسناک مظاہرہ کیا۔چنانچہ احمد یہ بلڈ نگس کے نزدیک ہی جہاں اس خدا کے فرستادہ کی نعش مبارک رکھی تھی دکھی اور زخم رسیدہ دلوں کی نمک پاشی کے لئے شہر کے آوارہ مزاج بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور انہوں نے نہایت بے شرمی کے ساتھ سامنے کھڑے ہو کر خوشی کے گیت گائے ، مسرت کے ناچ تا ہے اور شادمانی کے نعرے لگائے اور فرضی جنازے بنا بنا کر نمائشی ماتم کے جلوس نکالے۔وہ تو اوباشوں کی بعض اخبار نویسوں کی طرف سے سلسلہ کی تباہی کی پیشگوئی حرکات تھیں جو عین نعش کے سامنے کی گئیں لیکن اس کے بعد بعض کم ظرف اخبار نویسوں نے بھی اپنے اخبارات میں آپ کی وفات پر بڑی خوشی کا اظہار کر کے اپنے کم ظرف ہونے کا ثبوت دیا۔اور پبلک کو یقین دلایا کہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔