تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 569
تاریخ ام tt۔جلد ۲ ۵۳۴ حضرت مسیح موعود ہے۔بہر حال مشیت الہی میں جتنا حصہ لکھا جانا مقدر تھا وہ جب تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا حضور کی وفات نہیں ہوئی۔"1 پیغام صلح" میں حضور نے ملک کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور ہندوؤں کو صلح و آشتی کا شاندار پیغام دے کر اتحاد و اتفاق کی ایک مضبوط و مستحکم بنیاد قائم کر دی اور ہندو مسلم کشمکش کے مسئلہ کے خاتمہ کے لئے ایک نیا دروازہ کھول دیا۔معاہدہ کی تجویز چنانچہ حضور نے اس میں خدا تعالٰی کی عالمگیر صفت ربوبیت کا تذکرہ کرنے کے بعد ہندوؤں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہندو اور آریہ صاحبان اگر ہمارے نبی کو خدا کا سچا نبی مان لیں اور آئندہ توہین و تکذیب چھوڑ دیں تو میں سب سے پہلے اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پر تیار ہوں کہ ہم احمدی سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے اور دید اور اس کے رشیوں کا تعظیم اور محبت سے نام لیں گے۔اور اگر ایسا نہ کریں گے تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہو گی ہندو صاحبوں کی خدمت میں ادا کریں گے۔اور اگر ہندو صاحبان دل سے ہمارے ساتھ صفائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ایسا ہی اقرار لکھ کر اس پر دستخط کر دیں اور اس کا مضمون بھی یہ ہو گا کہ ہم حضرت محمد مصطفیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھتے ہیں اور آئندہ آپ کو ادب اور تعظیم کے ساتھ یاد کریں گے جیسا کہ ایک ماننے والے کے مناسب حال ہے۔اور اگر ہم ایسانہ کریں تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہو گی احمدی سلسلہ کے پیش رو کی خدمت میں پیش کریں گے۔" اعلان حق اس تجویز کے ساتھ ہی حضور نے صاف صاف لفظوں میں لکھا۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔