تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 562
تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ہو گئی۔۵۲۷ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری سفر لا ہو رہا قیام لاہور کا پہلا دن ۳۰/ اپریل ۱۹۰۸ء حضور کے قیام لاہور کا پہلا دن تھا جب کہ ابھی پوری طرح یکسوئی اور سکون میسر نہیں آسکا تھا مگر اس دن سے ہی حضور نے پوری قوت سے پیغام پہنچانا شروع کر دیا۔چنانچہ اس روز فرمایا۔" ہمیں خدا نے ایک پکا وعدہ دیا ہے اس میں ذرا بھی شک نہیں اور وہ یہ ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔نیز فرمایا۔جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو فیصلہ کو خداتعالی اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ہمیں تبلیغ کرتے ہوئے چھبیس سال ہوئے۔اور جہاں تک ممکن تھا ہم ساری تبلیغ کر چکے ہیں۔اب وہ خود ہی کوئی ہاتھ te دکھلا دے گا اور فیصلہ کرے گا۔" ۱۵ شہزادہ سلطان ابراہیم صاحب اور مسٹر محمد علی صاحب جعفری کی ملاقات ان دنوں شیرانوالہ گیٹ لاہور میں احمد شاہ ابدالی کی نسل میں سے ایک دوست رہتے تھے جن کا نام شہزادہ سلطان ابراہیم تھا۔۲ / مئی کو نماز عصر کے بعد شاہزادہ صاحب موصوف حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور نے ان کو فارسی زبان میں تبلیغ فرمائی اور دوران ملاقات خلیفتہ المسلمین ترکی کے متعلق یہ پیشگوئی فرمائی کہ "بادشاہ اور خلیفتہ المسلمین اور امیر المومنین کہلا کر بھی خدا کی طرف سے بے پروائی اچھی بات نہیں۔مخلوق سے اتناؤ ر نا کہ گویا خدا کو قادر ہی نہیں سمجھنا یہ ایک قسم کی سخت کمزوری ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ وہ خادم الحرمین ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ حرمین اس کے حافظ ہیں۔حرمین کی برکت اور طفیل ہے کہ اب تک وہ بچا ہوا ہے۔"یہ الفاظ بعد میں جس شان سے پورے ہوئے اس پر ایک عالم گواہ ہے۔ای روز مسٹر محمد علی جعفری ایم۔اے وائس پرنسپل اسلامیہ کالج بھی ملاقات کے لئے آئے تو انہیں مخاطب کرتے ہوئے حضور نے ایک پر معارف تقریر فرمائی۔نیز بتایا ”ہم نے زبانی اور تحریری