تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 548 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 548

تاریخ احمدیت - جلد ۲ ۵۱۳ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کامخری سالانہ جلسہ مامورت کا ستائیسواں ۲۷ سال چشمه معرفت کی تصنیف و اشاعت (۱۹۰۸ء) وجہ تالیف آریہ سماج نے اپنی مذہبی کا نفرنس میں اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر ناپاک حملے کئے تھے۔اور گو آریہ سماج نے جب اس کانفرنس کے " مضامین شائع کئے تو اس میں سے قابل اعتراض حصے حذف کر دیئے۔مگر جن گندی باتوں کو ہزاروں افراد نے سنا ان کا ازالہ کرنا از بس ضروری تھا۔لہذا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے شروع جنوری ۱۹۰۸ ء میں ہی اس کے جواب میں چشمہ معرفت" کے نام سے ایک مبسوط اور جامع کتاب تالیف فرما دی جو ۱۵ / مئی ۱۹۰۸ء کو شائع ہوئی۔یہ کتاب اپنے نام کی طرح معرفت کا ایسا پاک چشمہ ہے جس سے اسلام کی خوبیاں اور کمالات بحر مواج کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ چشمہ معرفت کی خصوصیت اور اس کا خلاصہ مضمون السلام کی کتابوں میں سے چشمہ معرفت " میں بہت ہی لطیف مضامین ہیں۔اور اس میں خوبی اور کمال یہ ہے کہ اس میں بہت سے مضامین نہایت جامعیت کے ساتھ چند سطروں میں آجاتے ہیں اور چند سطروں کے بعد ایک نیا مضمون سامنے آجاتا ہے۔چشمہ معرفت کے دو حصے ہیں۔پہلے حصہ میں حضور نے ان دعاوی کا رد فرمایا ہے جو ڈاکٹر بھارد واج سیکرٹری آریہ سماج لاہور نے دید کے بارے میں کئے تھے۔دوسرے حصہ میں ان حملوں کا رد ہے جو قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے گئے تھے۔خاتمہ کتاب میں حضور علیہ السلام نے بادا ناتک صاحب کی اسلام کی نسبت گواہی لکھی اور چولہ صاحب اور سکھوں کی کتاب سے بادا صاحب کے مسلمان ہونے کے قطعی ثبوت دیئے۔کتاب کے آخر میں حضور کا وہ معرکتہ الاراء مضمون شامل کیا گیا ہے جو آریہ سماج کی مذہبی کا نفرنس میں پڑھا گیا تھا۔