تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 524 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 524

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۸۹ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی ہلاکت نہیں۔یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے۔جو میرے دل کے حالات سے تو واقف ہے۔اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات انتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔آمین۔مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون رہیضہ وغیرہ امراض ملکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے تو بہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھ کو دکھ دیتا ہے۔آمین یا رب العالمین۔میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی۔وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بد تر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہو تا ہے اور انہوں نے ان تمتوں اور بد زبانیوں میں آیت لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ علم پر بھی عمل نہیں کی اور تمام دنیا سے مجھے بد تر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دوکان دار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہیں تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور اے میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتیجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین۔رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَانْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ - آمِين - بالا خر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔الراقم - عبد اللہ الصمد میرزا غلام احمد