تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 523 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 523

تاریخ احمد بیت جلد ۲ ۴۸۸ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی ہلا کر حضرت اقدس " اعجاز احمدی" کے زمانہ سے یہ دعا کر رہے تھے کہ مباہلہ کی صورت میں جھوٹے فریق کو عذاب انسانی ہاتھوں سے نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے ۱۴ / اپریل ۱۹۰۷ء کو آپ پر الہام نازل کیا کہ أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ " یعنی میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں۔مطلب یہ کہ اگر یہ مباہلہ ہوا تو اللہ تعالیٰ حضور کو زندہ رکھے گا اور فریق مخالف کو ایسا عذاب دے گا جس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہیں ہو گا۔سو حضرت اقدس نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو میدان مباہلہ میں لانے کے لئے از خود ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو اپنی طرف سے مسودہ مباہلہ شائع کیا جس کا عنوان ہی یہ رکھا کہ مسوده مباہلہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ " مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ : نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ يَسْتَنْبُونَكَ أَحَقُّ مُرَ - قُلْ إِلَى وَرَنِي إِنَّهُ لَحَقُّ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب - السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردد در کذاب و دجال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کاذب اور دجال ہے۔اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے میں مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہو سکتا۔اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ ملک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی دارد نہ ہوئی تو میں خدا کی طرف سے