تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 36 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 36

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ W4 مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی اور مضل ہے اور اہل سنت سے خارج ہے پس یہ جواب بشرط صدق سوال صحیح ہے۔مصداق علیہ اس کا خواہ زید ہو یا عمرد کسی خاص آدمی پر فتویٰ نہیں ہے۔عام طور پر یہ عقیدہ اہل سنت کا لکھا گیا ہے اور اس میں کسی شخص کا کسی قسم کا دھوکہ نہیں ہے۔" غرضیکہ پہلے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی تذلیل ہوئی اب ان کے بعض ہم خیال علماء پر بھی اخلاقی موت ورد ہو گئی اور يَعُضُّ الظَّالِمُ على یدیہ کا ایسا عظیم الشان نظارہ سامنے آیا کہ خدائی الہامات کے پورے ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی علمی ذلت يديه اور "راز حقیقت" کی تصنیف و اشاعت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی منافقت صاف نمایاں ہو گئی جو خود ایک بڑی ذلت اور رسوائی تھی مگر اس کے ساتھ علمی میدان میں بھی ان کی آبرو باختگی کا سامان ہوا۔اور وہ اس طرح کہ حضور نے ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار میں اپنا ایک یہ الہام بھی درج فرمایا تھا کہ "ا تُعْجِبُ لِامْرِی - " مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس پر بے سوچے سمجھے اپنی عالمانہ شان کا سکہ جمانے کے لئے یہ اعتراض بڑے طمطراق سے پیش کیا کہ عربی زبان میں تعجب کا صلہ لام کبھی نہیں آتا اس لئے یہ الہام ہی سرے سے غلط ہے۔حضرت اقدس نے اس کا جواب "راز حقیقت میں شائع فرمایا اور دیوان حماسہ سے شعرائے عرب کی پانچ مثالوں کے علاوہ حدیث میں مشکوۃ کتاب الایمان سے سے افصح العرب والعجم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے عجب کا صلہ لام ثابت کر کے مولوی صاحب کے ادعا کی ایسی قلعی کھولی کہ دنیا پر ثابت ہو گیا کہ بٹالوی صاحب علم حدیث تو کیا علم ادب کے کوچہ سے بھی ناواقف ہیں۔رساله "راز حقیقت میں حضور نے حضرت مسیح علیہ السلام کے سفر کشمیر پر بھی نہایت جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور قبر مسیح کا نقشہ بھی درج فرمایا ہے جو قابل دید ہے۔کشف الغطاء کی تصنیف و اشاعت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے چونکہ اپنے انگریزی رسالہ میں حضرت اقدس پر باغی ہونے کے الزام کا اعادہ کیا اور لکھا کہ آپ نے گویا کوئی الہام اس مضمون کا شائع کیا ہے کہ گورنمنٹ انگریزی آٹھ سال کے عرصہ میں تباہ ہو جائے گی۔اس امر کا ازالہ کرنے کے لئے حضور نے ۲۷/ دسمبر ۱۸۹۸ء کو ”کشف الغطاء" کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا جس میں حضور نے حکومت کو کھول کر بتایا کہ