تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 469
تاریخ احمدیت جلد ؟ 044 " حقیقته الومی " کی تصنیف و اشاعت حقیقہ الوحی کی تصنیف و اشاعت ۱۹۰۶ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دور مسیحیت کے سب سے ضخیم اور جامع کتاب "حقیقته الوحی تصنیف کرنا شروع فرمائی جس میں قرآنی حقائق و معارف کے علاوہ اپنی صداقت کے دو سو سے زائد آسمانی نشانات درج فرمائے۔یہ بے نظیر کتاب ۱۵/ مئی ۱۹۰۷ء کو شائع ہوئی۔وجہ تصنیف اس عظیم الشان کتاب کی وجہ تصنیف حضور کے الفاظ میں یہ تھی۔" اس زمانہ میں جس طرح اور صدہا طرح کے فتنے اور بدعتیں پیدا ہو گئی ہیں اسی طرح یہ بھی ایک بزرگ فتنہ پیدا ہو گیا ہے کہ اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ کس درجہ اور کس حالت میں خواب یا الهام قابل اعتبار ہو سکتا ہے اور کن حالتوں میں اندیشہ ہے کہ وہ شیطان کا کلام ہو نہ خدا کا۔اور حدیث النفس ہو نہ حدیث الرب۔۔۔سو ان کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی فضل کی بارشیں ان پر ہوتی ہیں اور خدا کی قبولیت کی ہزاروں علامتیں اور نمونے ان میں پائے جاتے ہیں جیسا کہ ہم اس رسالہ میں انشاء اللہ ذکر کریں گے۔لیکن افسوس کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ ابھی شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہیں مگر پھر بھی خوابوں اور الہاموں پر بھروسہ کر کے اپنے نار است اعتقادوں اور ناپاک مذہبوں کو ان خوابوں اور الہاموں سے فروغ دینا چاہتے ہیں بلکہ بطور شہادت ایسی خوابوں اور الہماموں کو پیش کرتے ہیں۔۔۔۔یہ وہ خرابیاں ہیں جو اس ملک میں بہت بڑھ گئی ہیں اور ایسے لوگوں میں بجائے دین داری اور راست بازی کے بے جا تکبر اور غرور پیدا ہو گیا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے یہ رسالہ لکھوں۔" یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک عظیم شاہکار ہے جس سے حضور کی سچائی بھی سورج کی طرح ثابت ہو جاتی ہے اور اسلام کا زندہ مذہب ہونا بھی !