تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 452 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 452

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۴۹ انقلاب ایران کے متعلق پیش گوئی وجہ دور نہ ہوئی تو جوش کیسے ٹھنڈا پڑے گا۔"مسٹر مار لے کے جواب کے ساتھ ایک اور معاملہ کا تعلق ہے اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی بابت بنگال ہے۔اس جواب نے مرزا صاحب کی پیش گوئی کو قطعی طور پر غلط ثابت کر دیا ہے۔مرزا صاحب نے پیش گوئی کی تھی کہ بنگالیوں کی دل جوئی ہوگی۔ان کو شاید یہ الہام اس لئے ہوا تھا کہ لبرل گورنمنٹ طاقت میں آگئی تھی لیکن کیا خیال تھا کہ ان کے سر پر اتنی جلدی آفت نازل ہوگی اور انہیں دنیا کے سامنے روسیاہ ہونا پڑے گا۔گورنمنٹ نے تقسیم بنگال کے متعلق اتنی دل جوئی ضرور کی کہ ان کی پولی ٹیکل امیدوں کا ہی بالکل خاتمہ کر دیا۔پیش گوئی کا پورا ہونا خدائی پیش گوئی پر یہ تمسخر اور نہی جاری تھی کہ چار سال بعد حالات نے یکایک ایسا پلٹا کھایا کہ " تقسیم بنگال " جسے حکومت اور عوام دونوں ایک " طے شدہ " مسئلہ قرار دئے بیٹھے تھے اللہ تعالٰی کے زبردست ہاتھ سے منسوخ کر دی گئی اور وہ اس طرح کہ شہنشاہ ہند جارج پنجم (۱۸۶۵ - ۱۹۳۶ء) ۷ / دسمبر ۱۹۱ء کو ہندوستان کے قدیم دارالسلطنت دہلی میں پہنچے اور ۱۲ دسمبر ۱۹۱۱ء کو ایک عظیم الشان دربار منعقد کر کے اس میں تقسیم بنگال کی منسوخی کا از خود اعلان کر کے ایک دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کیوں کہ ہندوستان کے عوام تو رہے ایک طرف خود برطانوی پارلیمنٹ کے ممبروں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ شہنشاہ معظم اپنے خصوصی اختیارات سے ایسی اہم تبدیلی کریں گے۔چنانچہ جب اس تاریخ کو دار العلوم اور دار الامراء میں یہ شاہی اعلان سنایا گیا تو دار الامراء کے ممبر لارڈ لینڈوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں اہم اچانک اور جلد بازی سے عمل میں لائی گئی ہیں۔زیادہ اہم یہ اس لئے ہیں کہ وہ خاص شہنشاہ کی حسب مرضی کی گئی ہیں۔" ایک انگریز مصنف کا بیان ہیرلڈ نکلسن (Herald Nicholson) ایک انگریز مصنف لکھتا ہے ” دربار کے خاتمہ پر مجب وائسرائے نے اپنی تقریر ختم کی تو حاضرین کی حیرانی کی کوئی حد نہ رہی کہ ملک معظم خود اٹھے اور انہوں نے بلند آواز اور واضح الفاظ میں تقسیم بنگال کی تنسیخ کا اعلان کیا۔" ( ترجمہ ) اخبارات کی رائے ہندوستان کے اخبارات نے بھی اس اعلان پر صاف تسلیم کیا کہ (جیسا کہ مامور وقت کی پیش گوئی میں بتایا گیا تھا) واقعی بنگالیوں کی دلجوئی ہوتی ہے۔مناک کام دوسری بار دلجوئی تقسیم بنگال کی تلفی مسلمانوں کو طبعا ناگوار گزری کیوں کہ بنگال کی تقسیم سے وہ سمجھتے تھے کہ لازمی طور پر مشرقی بنگال کے پامال شدہ حقوق نمایاں حیثیت اختیار کر لیں گے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دل جوئی کا سامان یوں کیا کہ حکومت نے ڈھاکہ یونیورسٹی