تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 451
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۴۸ تقسیم بنگال کی تنسیخ کے متعلق خبر انقلاب ایران کے متعلق پیش گوئی لارڈ کرزن نے ۱۹۰۵ء میں صوبہ بنگال کو مشرقی اور مغربی دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔انڈین نیشنل کانگرس نے لارڈ کرزن سے اس اعلان کی واپسی کا پر زور مطالبہ کیا مگر لارڈ کرزن نے جواب دیا کہ ”یہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔" اس پر ملک میں جابجاد ہشت انگیز اور انقلاب پسند انجمنیں قائم ہو گئیں۔ہم سازی اور یورپین افسروں کے قتل کی سازشیوں نے زور پکڑا۔لارڈ منٹو نے یہ ہنگامے دیکھ کر ہندوستانیوں کو بعض حقوق دینے کا فیصلہ کر لینے کے باوجود مطالبہ تنیخ ماننے سے بالکل انکار کر دیا۔جو کلام عین اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو 11/ فروری ۱۹۰۶ء کو الہاما بتایا گیا۔" پہلے بنگالہ کی نسبت جو حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دل جوئی ہوگی۔" پیش گوئیوں پر ہندوؤں کا تمسخر به العام اس درجہ مخالف ماحول اور بالکل غیر متوقع فضا میں ہوا کہ بعض ہندوؤں نے اس کا برملا تمسخر اڑایا۔چنانچہ اخبار " پر کاش" نے اپنی فروری ۱۹۰۶ ء اور ۶ / مارچ ۱۹۰۶ ء کی اشاعتوں میں لکھا۔" تقسیم بنگال منسوخ ہو جائے گی " ناظرین اس نوٹ کی سرخی کو دیکھ کر حیران ہوں گے اور پوچھیں گے کہ کیا مسٹر جان مارلے نے کوئی تار بھیجا ہے کہ یہ تقسیم منسوخ کر دی جائے گی ؟ ہم ان کے جواب میں صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ گورنمنٹ نے اپنے عمل سے کوئی اپنی امید نہیں دلائی بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو الہام ہوا ہے کہ تقسیم بنگال کے متعلق لوگوں کی دلجوئی کی جائے گی۔سوال پیدا ہو گا کہ جب بنگالی گورنمنٹ کی خدمت میں پروٹسٹ بھیج چکے کوئی نہ سنی گئی جلسے کر چکے تقریریں کر چکے کوئی شنوائی نہ ہوئی بطور دھمکی کے وہ انگریزی اشیاء کا استعمال بھی قطعانا جائز قرار دے چکے پھر بھی کچھ نہ بنا تو مرزا صاحب کے اس ڈھونگ سے کچھ بن جائے گا۔ہم جانتے ہیں کہ مرزا صاحب کا الہام اس بارے میں کچھ نہیں کر " ہندوستان کی پولیٹیکل امیدوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔پچھلے منگل وار کو مسٹر ہربرٹ رابرٹس نے تقسیم بنگال کے سوال پر ترمیم پیش کی۔مسٹر مار لے وزیر ہند نے سوال کو از سر نو چھیڑنے سے انکار کر دیا۔وجہ جو دی ہے اس کو پڑھ کر تو ایک بچہ بھی ہنس دے گا۔آپ فرماتے ہیں کہ گو تقسیم بنگال کی تجویز لوگوں کی خلاف مرضی پاس کی گئی ہے لیکن چونکہ اب جوش کم ہو جانے لگا ہے اس لئے اس سوال کو میں چھیڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ملک کو اب آرام اور چین کی ضرورت ہے۔حیرت ہے کہ جب جوش کی