تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 406 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 406

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۰۳ جماعت کے احباب میں بھی ان کی شفایابی نے خوشی اور مسرت کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔مدرسہ احمدیہ کی بنیاد الہامات کے مطابق اور بہشتی مقبرہ میں تدفین تحریہ ایک وقتی امیر تھا ورنہ در اصل آسمان پر شہنشاہ حقیقی کی طرف سے اپنے دربار میں بلاوے کا حکم صادر ہو چکا تھا اور اللہ تعالٰی کی طرف سے الہامات میں مولوی صاحب کی واپسی کی متواتر خبریں بھی دی جارہی تھیں۔مثلا ۲ / ستمبر ۱۹۰۵ء کو خداتعالی کی طرف سے الہام ہوا۔سینتالیس سال کی عمر انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( مولوی صاحب کی عمر اس وقت ۴۷ سال کی تھی اسی روز دو سرا الہام یہ ہوا اس نے اچھا ہوتا ہی نہ تھا۔" A / ستمبر کو الہام ہوا کفن میں لپیٹا گیا۔" 9 ستمبر کو الہام ہوا۔اِنَّ الْمَنَا يَا لَا تَطِيشُ سِهَا مُهَا " (یقینا موت کے تیر خطا نہیں جاتے)۔ان تمام الہامات میں آپ کی وفات کی اطلاعات موجود تھیں جو تقدیر مبرم تھی۔اس لئے حضرت مولوی صاحب کو کار بنکل کی بیماری سے پورا فاقہ ہوا ہی تھا کہ آپ ذات الجنب کی بیماری میں مبتلا ہو گئے جس سے ۰۶ درجہ بخار ہو گیا اور آپ ۱۱ / اکتوبر ۱۹۰۵ء کو بدھ کے دن اڑھائی بجے کے قریب عالم جاودانی کو رحلت فرما گئے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کی نعش حضرت اقدس کے حکم کے مطابق ۱۲ / اکتوبر کو قبل دو پھر ایک صندوق میں پہلے اما ختار فن کی گئی کیوں کہ حضور کا منشاء اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق "بہشتی مقبرہ" کے قیام کا تھا اور حضور سب سے پہلے آپ ہی کو اس میں سپرد خاک کرنا چاہتے تھے۔۲۶ / دسمبر کو جب کہ بیرون جات سے احمدی دوست جلسہ سالانہ کے موقعہ پر کثیر تعداد میں حاضر تھے نماز ظہر و عصر کے بعد احباب حضرت مولوی صاحب کا تابوت اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے باغ میں پہنچے۔اگلے روز ۲۷ / دسمبر کی صبح کو دس بجے کے قریب حضور نے اپنے خدام کو لے کر نماز جنازہ پڑھی اور آپ کو "بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔اس طرح آپ کے مقدس وجود سے بہشتی مقبرہ کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا کتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے کتبہ کے لئے ایک درد انگیز مرضیہ لکھا جو آپ کے مزار مبارک کی لوح پر آج تک موجود ہے۔اس مرفیہ کے چند اشعار یہ ہیں۔کے توان کردن شمار خوبی عبدالکریم آنکہ جاں داد از شجاعت بر صراط مستقیم حامتی دیں آنکہ یزداں نام او لیڈر نماد عارف اسرار حق گنجینه دین قویم گرچه جنس نیکواں ایس چرخ بسیار آورد کم بزاید مادری با این صفا در اے خدا بر تربت او بارش رحمت بیار داخلش کن از کمال فضل در بیت النعیم 2 یتیم