تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 400 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 400

اریخ احمدیت۔جلد ۲ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز ۴۷- بحوالہ الحکم ۲۴ / مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰- الدبد ر۲۵/ مئی ۱۹۰۵ء صفحه ۸ ۴۸ آزاد کی کہانی صفحه ۳۳۹ تا ۳۴۲ ۳۹ - الحکم ۱۰ / مئی ۱۹۰۵ء صفحہ اکالم نمبر ۴ ۵۰ دیکھو اخبار سیاست ۱۱/ دسمبر ۱۹۲۹ء زوال غازی صفحہ ۴۲۰ - ۱۴۲۲ مولفہ عزیز ہندی۔مطبوعہ ثنائی برقی پریس امرتسر من اشاعت ۱۹۳۳ء) الله سلسلہ احمدیہ کے اشد ترین معاند اخبار " اہلحدیث " نے ۲۸ / فروری ۱۹۳۰ء کو (جبکہ نادر شاہ نے عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لی۔اور اخبار " الفضل " نے اس کے "نادر شاہ " کہلانے کو حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کا پورا ہونا ثابت کیا لکھا " شاہ کے لفظ میں پیشگوئی ہے کہ نادر خاں آخر میں نادر شاہ بن جائے گا“ (الفضل ۳/ جنوری ۱۹۳۰ء) بات تو بہت معقول ہے مگر ہم پوچھتے ہیں کہ افغانستان میں نادر شاہ بولا جاتا ہے۔کیا افغانستان کی اصطلاح میں بادشاہ کو شاہ کے لقب سے کبھی یاد کیا گیا کیا کبھی عبد الرحمن شاہ یا حبیب اللہ شاہ یا امان اللہ شاہ کے القاب کسی نے نے۔وہیں تو شاہ کا لقب بادشاہ کے لئے ہے بھی نہیں بلکہ ہم کہیں گے کسی معتبر تحریر میں عبد الرحمن شاہ یا حبیب اللہ شاہ وغیرہ نہیں تھے۔پس اگر یہ الہام افغانستان کے مافی الضمیر کی ترجمانی ہوتی تو شاہ کا لقب نہ اگر ہو تا بلکہ نادیہ خان کا لقب ہوتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نادر شاہ والا الہام کسی اور موقعہ کے لئے ہے۔" -۵۲- چنانچہ انقلاب نے لکھا او صد ہزار حسرت و آو کہ آج افغانستان اپنے بہترین خادم سے محروم ہو گیا (۱۱/ نومبر ۱۹۳۳ء) "سیاست" نے لکھا۔" آہ نادر شاہ خلد آشیاں"۔(۱۱/ نومبر ۱۹۳۳ء) اخبار ”مدینہ" نے لکھا ہندوستان کے ہوش و حواس پر یہ برقی خبر بجلی کی طرح گری کہ ۱۸ نومبر ۳ بجے اعلیٰ حضرت نادر شاہ غازی بادشاہ افغانستان کو کسی غدار وطن نے شہید کر دیا۔تمام مسلمان غم دافسوس کی تصویر بن گئے (۱۳/ نومبر ۱۹۳۳ء) ۵۳ - سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے نادر شاہ کی موت پر " آہ نادر شاہ کہاں گیا ہی کے عنوان سے "الفضل (۲۳ نومبر ۱۹۳۳ء) میں ایک مفصل مضمون لکھا جو ٹریکٹ کی شکل میں شائع ہو گیا تھا۔