تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 399 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 399

اریخ احمدیت جلد ۲ ۲۹ اخبار پدر ۱۳ مئی ۱۹۰۹ء صفحه ۱۲ کالم نمبر ۲-۳ ۳۰- الوصیت صفحه ۱۳ ۳۱- رساله البیان جلد ۵ نمبر ۳ (۱۵/ مفر ۱۳۲۴ھ مطابق ۱۰ / اپریل ۱۹۰۱ء) ۳۲- براہین احمدیہ حصہ پنجم دریاچه البدر ۵ / مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۲ کالم نمبر ۳ دلائل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز پدری / نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۲ کالم نمبر ۴ ، وفات ۲۰ مارچ ۱۹۲۶ء۔بنگال میں بہت سی احمد یہ جماعتیں آپ کے ذریعہ سے قائم ہو ئیں۔آپ نے اپنی بیعت کے مفصل حالات "جذبات الحق" نامی رسالہ میں لکھتے ہیں جو قابل دید ہیں (مزید حالات کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۳ اپریل ۱۹۲۶ء صفحہ ۹ الفضل ۲۶/ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۳ و الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۴۳ء الفضل ۲۴ دسمبر۶۱۹۵۷ صفحه ۳۱) ۳۵ تاریخ ۱۵/ اپریل ۱۹۰۵ء -۳۶- حاشیہ خداتعالی کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہو گا جو نمونہ قیامت ہو گا بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہیے جس کی طرف سورۃ اذا زلزلت الارض زلزالها اشارہ کرتی ہے لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ہاں اگر ایسا فوق العادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں میں کاذب ٹھہروں گا۔" ۳۷۔براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۲۰ طبع اول ۳۸ در همین اردو ۳۹- الحکم ۳۱ / مارچ ۱۹۰۹ء صفحہ اکالم نمبرا ۲۰ ملخصا از "دعوة الامیر ۲۳۴۴ تا صفحه ۲۴۳ جنگ عظیم کے متعلق ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا برٹینک زیر لفظ World War۰ ۴۱- رساله اظهار حق صفحه ۲۱ -۴۲- آزاد کی کہانی ۱۸۱ به روایت مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی) ناشر حالی پبلشنگ ہاؤس دہلی طبع اول اپریل ۱۹۵۸ء ۴۴- مولانا عبد المجید صاحب سالک اپنی کتاب یاران کهن " صفحہ ۴۱ میں آغا حشر، نظیر حسن سخا اور ابو نصر آہ کے متعلق لکھتے ہیں "مناظروں کے سلسلے میں انہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی بعض ایسی کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا جن میں عیسائیوں اور آریوں کے مقابلے میں اسلام کی حمایت کی گئی تھی۔یاروں کا یہ مجمع ایک دفعہ تو فیصلہ ہی کر چکا تھا کہ پنجاب جائیں اور مرزا صاحب سے لمیں"۔۴۴ مفصل ملاحظہ ہو۔الحکم ۲۴/ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ نمبر۱ الحکم ۳۱/ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ اکالم نمبر ۳ پر گزشتہ ہفتہ کی خبروں میں لکھا ہے کہ ”سیاح قادیان کے بھائی مولانا آزاد بھی ایک روز کے لئے آئے اور واپس گئے۔" اور مولانا آزاد کے اپنے بیان سے ظاہر ہے کہ یہ جمعرات کا دن تھا جو تقویم سنسی کی رو سے ۲۵/ مئی ہی قرار پاتا ہے۔الفضل ۱۴ جولائی ۱۹۴۵ء صفحہ ۴ کالم نمبر ا حضرت سیٹھ صاحب کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں بھائی گویا ایک ساتھ قادیان گئے تھے جو صحیح نہیں ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے مولانا ابو النصر آہ ۲/ مئی ۱۹۰۵ء کو اور مولانا ابو الکلام آزاد ۲۵/ مئی ۱۹۰۵ء کو قادیان گئے تھے جب یہ حقیقت ہے تو مولانا ابو النصر نے اپنے خواب کے پورا ہونے کا جو تذکرہ کیا ہو گارہ اپنے بھائی مولانا آزاد کے بتانے پر ہی کیا ہو گا۔اندریں صورت ہمیں تسلیم کرناپڑتا ہے کہ حضرت سیٹھ صاحب کو بیان کے اس قصہ میں یقینا سو ہوا ہے اور ان کی یادداشت میں مولانا ابو النصر آہ کے اصل الفاظ پوری طرح محفوظ نہیں رہ سکے۔بایں ہمہ پو را بیان اصولی اعتبار سے ایک نا قابل تردید واقعہ ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ حضرت سیٹھ صاحب نے یہ واقعہ مولانا آزاد کو جون ۱۹۴۵ء میں بذریعہ خط لکھ کر بھیج دیا تھا اور اپنا یہ خط اخبار الفضل میں بھی شائع کرادیا۔مولانا آزاد اس کے بعد تیرہ برس تک زندہ رہے مگر انہوں نے مولانا ابو النصر آہ کے اس خواب کے پورا ہونے کی بابت قطعا کوئی تردید شائع نہ کی۔