تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 393
۳۹۰ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز مرزا صاحب کی بیعت کر آیا ہوں مگر اخبار میں اعلان نہ کرنے کے لئے کہہ آیا ہوں۔کیونکہ ایک تو والدہ صاحب کا خیال ہے اور دو سرے میرے بھائی ابو الکلام کا بیعت نہ کرنا ہے۔11 مولانا ابو النصر آہ کے تاثرات مولانا ابو النصر آہ نے امرتسر کے اخبار "وکیل" میں انہی دنوں مندرجہ ذیل الفاظ میں اپنے تاثرات شائع کئے۔- ”میں نے اور کیا دیکھا؟ قادیان دیکھا۔مرزا صاحب سے ملاقات کی۔مہمان رہا۔مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرنا چاہیے۔میرے منہ میں حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے اور میں شور غذا ئیں نہیں کھا سکتا تھا مرزا صاحب نے (جب کہ دفعتا گھر سے باہر تشریف لے آئے) دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی۔آج کل مرزا صاحب سے قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ میں (جو خود انہیں کی ملکیت ہے) قیام پذیر ہیں۔بزرگان ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی تقریباً ۳ ہزار آدمیوں کی ہے مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے۔نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اور بلند عمارت تمام بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے۔راستے کچے اور ناہموار ہیں بالخصوص وہ سڑک جو بٹالہ سے قادیان آئی ہے اپنی نوعیت میں سب پر فوق لے گئی ہے۔آتے ہوئے مجھے یکہ میں جس قدر تکلیف ہوئی تھی نواب صاحب کے رتھ نے لوٹتے وقت نصف کی تخفیف کر دی۔اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہو تا تو شاید آٹھ میل تو کیا آٹھ قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتا۔اکرام الفین کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا سلوک کیا۔اور مولانا حاجی حکیم نور الدین صاحب جن کے اسم گرای سے تمام انڈیا واقف ہے۔اور مولانا عبد الکریم صاحب جن کی تقریر کی پنجاب میں دھوم ہے۔مولوی مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بد ر جن کی تحریروں سے کتنے انگریز یورپ میں مسلمان ہو گئے ہیں۔جناب میر ناصر نواب صاحب دہلوی مرزا صاحب کے خسر ہیں۔مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ایل ایل۔بی ایڈیٹر ” ریویو آف ریلیجز " مولوی یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم۔جناب شاہ سراج الحق صاحب وغیرہ وغیرہ پرلے درجہ کی شفقت اور نہایت محبت سے پیش آئے۔افسوس مجھے اور اشخاص کا نام یاد نہیں ورنہ میں ان کی مہربانیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا۔میرزا صاحب کی صورت نہایت شاندار ہے جس کا اثر بہت فوری ہوتا ہے۔آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے۔طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔مزاج ٹھنڈ انگر دلوں کو گرما دینے والا۔بردباری کی شان نے انکساری کی کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیا ہے۔گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہو تا ہے کہ گویا متبسم ہیں۔رنگ گورا ہے۔بالوں کو حنا کا رنگ دیتے ہیں۔جسم مضبوط اور