تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 392 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 392

تربیت - جلد ۲ ۳۸۹ زلازل کے غیر معمول سلسلہ کا آغاز خواہش تھی کہ قادیان میں آکر کسی وقت حضور کی زیارت کا شرف حاصل کریں۔حضرت سیٹھ اسمعیل آدم صاحب کا بیان ہے کہ ۱۹۰۲ ء میں مولانا ابو النصر نے ایک خواب دیکھا کہ میں اور میرا چھوٹا بھائی ابو الکلام قاریان گئے ہیں۔ایک چھوٹی سی مسجد میں مرزا صاحب سے ملاقات ہوئی۔کچھ دینی مسائل میں مرزا صاحب سے گفتگو ہوئی۔اس گفتگو کے دوران میں میرے بھائی ابو الکلام آزاد نے مرزا صاحب سے سخت کلامی کی۔پاس ہی عینک لگائے ہوئے ایک بزرگ بیٹھے تھے ان کو سخت غصہ آیا اور انہوں نے ابوالکلام کو ڈانٹ کر کہا ”چپ کسی ہستی کے ساتھ بے ادبانہ کلام کرتا ہے جس کی تعریف رسول اللہ ﷺ فرما گئے ہیں " اس عینک والے بزرگ کا بڑا زور دار آواز تھا اور اس کی آواز میں ایک ہیبت تھی جس سے فور امیری آنکھ کھل گئی۔مولانا ابو النصر صاحب نے اپنا یہ خواب مجھے سنایا تو میں نے ان سے کہا کہ میرے پاس ایک گروپ فوٹو ہے اس میں حضرت مرزا صاحب کی تصویر بھی ہے۔میں خود بھی اس تصویر میں ہو۔اگر میں آپ کو دکھاؤں تو آپ اس بزرگ کو پہچان لیں گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں مجھے انکا چہرہ اچھی طرح یاد ہے۔دو چار دن کے بعد سیٹھ صاحب وہ فوٹو ان کے پاس لے گئے اور انہوں نے بڑے غور سے دیکھ کر اپنی انگلی سے ان کو بتایا کہ یہ مرزا صاحب ہیں اور عینک لگائے ہوئے بزرگ جنہوں نے میرے بھائی کو ڈانٹا تھا وہ یہ ہیں۔تب سیٹھ صاحب نے ان کو بتایا کہ ان کا نام مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی ہے۔ان کی آواز بہت بلند ہے اور ۱۸۹۶ء میں لاہور میں جو جلسہ مذاہب ہو ا تھا اس میں حضرت مرزا صاحب کا مضمون سنانے والے یہی بزرگ ہیں۔اس خواب کے تین سال بعد وہ اپنے چھوٹے بھائی ابو الکلام آزاد کو لے کر ( جن کی عمر اس وقت سترہ سال کی تھی) ہمیئی سے انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں شرکت کے لئے لاہور آئے جہاں سے فارغ ہو کر ۲ / مئی ۱۹۰۵ء کو نماز ظہر سے قبل قادیان پہنچے اور نہایت عقیدت کے ساتھ حضور کی خدمت میں باغ میں جہاں آپ مقیم تھے حاضر ہوئے حضرت اقدس ان کا حال دریافت فرماتے رہے۔اس کے بعد حضور نے ان کو بہت قیمتی نصائح فرما ئیں۔جن سے وہ بہت متاثر ہوئے اور بیعت کر لی۔مولانا ابو الکلام صاحب آزاد قادیان کے سفر میں ان کے ساتھ نہیں تھے وہ ۲۵ / مئی ۱۹۰۵ء کو قادیان گئے۔بہر کیف دونوں بھائی مختصر سے قیام اور انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں شرکت کے بعد پنجاب سے واپس بمبئی پہنچے۔یہاں مولانا ابو النصر آہ سیٹھ اسمعیل آدم صاحب سے ان کی دکان پر ملے اور بتایا کہ ہم قادیان گئے تھے۔اور جو واقعہ خواب میں میں نے دیکھا تھا اسی طرح وقوع پذیر ہوا یعنی وہی چھوٹی سی مسجد ، مرزا صاحب کے ساتھ گفتگو اور میرے بھائی کی سخت کلامی اور مولوی عبد الکریم صاحب کا ڈانٹنا بالکل اسی طرح وقوع پذیر ہوا جیسا خواب میں دیکھا تھا۔نیز یہ کہ میں حضرت