تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 391
اریخ احمدیت۔جلد ۲ زنازی کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز شروع کر دی اور اس کے بیمار بچہ کو وحشی سپاہی اس کے اور اس کی بیوی کے سامنے نہایت بیدردی سے مارتے اور اس کی بیٹیوں کو بھی نہایت ظالمانہ طور سے دق کرتے۔آخر ایک دن زارینہ کو سامنے کھڑا کر کے اس کی نوجوان لڑکیوں کی جبر ا عصمت دردی کی گئی۔اور جب زارینہ اپنا منہ روتے ہوئے دوسری طرف کر لیتی تو ظالم سپاہی سنگینیں مار مار کو اس کو مجبور کرتے کہ وہ ادھر منہ کر کے دیکھے جدھر ظالم وحشیوں کا گروہ انسانیت سے گری ہوئی کارروائیوں میں مشغول تھا۔زار اسی قسم کے مظالم کو دیکھتا اور ان سے زیادہ سختیاں برداشت کرتا ہوا جتنی کہ شاید کبھی کسی شخص پر بھی نازل نہ ہوئی ہوں گی ۱۶ جولائی ۱۹۱۸ء کو معہ کل افراد خاندان کے نہایت سخت عذاب کے ساتھ قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے نبی کی بات پوری ہوئی کہ ع زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار " ایک غیر احمدی عالم کا اعتراف مولوی سمیع اللہ صاحب فاروقی اپنے رسالہ " اظہار الحق" میں لکھتے ہیں۔اپریل ۱۹۰۵ء میں آپ کو اطلاع ملی کہ ” زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار " یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ زار اپنی پوری قوت اور طاقت کے ساتھ روس کے کروڑہا بندگان خدا پر خود مختارانہ حکومت کر رہا تھا۔لیکن چند ہی سال بعد انقلاب روس کے موقعہ پر بالشویکیوں کے ہاتھ سے زار روس کی جو گت بنی وہ نہایت ہی عبرت انگیز ہے۔دنیا کا سب سے بڑا خود مختار بادشاہ پائے بجولاں ہے۔اس کے خاندان کے تمام ارکان پابند سلاسل ہیں اور باقی اپنی سنگینوں اور بندوقوں سے خاندان شاہی کے ایک ایک رکن کو ہلاک کرتے ہیں۔جب زار کے تمام بچوں اور بیوی کو باغی تڑپا تڑپا کر مار چکتے ہیں تو زار کو نہایت بے رحمانہ طریق پر قتل کر دیتے ہیں۔" قادیان میں مولانا ابو النصر آہ اور مولانا ابوالکلام آزاد کی آمد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نیا علم کلام ہندوستان میں مقبول ہو رہا تھا جس سے حساس اور درد مند دل رکھنے والے مسلم حلقے متاثر تھے اور غیر مسلموں کے سامنے اسے پیش کرتے تھے۔ان متاثرین میں مولانا ابوالکلام آزاد (۱۸۸۸ء۔۱۹۵۸ء) کے بڑے بھائی غلام یاسین مولانا ابو النصر آه (۱۸۸۲ء ۱۹۰۷ء) بھی تھے۔مولانا ابو النصر سے صدہا آدمیوں نے بیعت کر رکھی تھی۔وہ بمبئی میں دائی۔ایم۔ایس کے پر پچنگ ہال میں ہی ہفتہ جاتے اور غیر مسلموں سے نہایت سرگرم مباحث کرتے تھے۔ان مباحثات میں وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام لٹریچر سے استفادہ کرتے تھے۔اور ان کی بڑی