تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 390 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 390

احمدیت جلد ؟ ۳۸۷ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز کچھ ایک ہی دن میں ہو گیا۔یعنی بارہ ۱۲ مارچ ۱۹۱۷ء کی صبح سے شام تک دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ اختیار رکھنے والا بادشاہ جو اپنے آپ کو زار کہتا تھا یعنی کسی کی حکومت نہ ماننے والا اور سب پر حکومت کرنے والا حکومت سے بیدخل ہو کر اپنی رعایا کے ماتحت ہو گیا اور پندرہ مارچ کو مجبورا اسے اپنے ہاتھ سے یہ اعلان لکھنا پڑا کہ وہ اور اس کی اولاد تخت روس سے دستبردار ہوتے ہیں اور حضرت اقدس کی پیشگوئی کے مطابق زاروں کے خاندان کی حکومت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا۔مگر ابھی اللہ تعالی کے کلام کے بعض حصوں کا پورا ہونا باقی تھا۔نکولس ثانی ( زار روس) یہ سمجھتا تھا کہ وہ حکومت سے بیدخل ہو کر اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جان بچالے گا اور خاموشی سے اپنی ذاتی جائدادوں کی آمد پر گزارہ کرلے گا۔مگر اس کا یہ ارادہ بھی پورا نہ ہو سکا۔پندرہ مارچ کو وہ حکومت سے دستبردار ہوا اور ۲۱ / مارچ کو قید کر کے سکو سیلو بھیج دیا گیا۔۲۲ / مارچ کو امریکہ نے ۲۴ / مارچ کو انگلستان۔فرانس اور اٹلی نے باغیوں کی حکومت تسلیم کرلی اور زار کی سب امیدوں پر پانی پھر گیا۔اس نے دیکھ لیا کہ اس کی دوست حکومتوں نے جس کی مدد پر اسے بھروسہ تھا اور جن کے لئے وہ جرمن سے جنگ کر رہا تھا کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس کی باغی رعایا کی حکومت تسلیم کرلی ہے اور اس کے لئے ایک کمزور سی آواز بھی نہیں اٹھائی۔مگر اس تکلیف سے زیادہ تکلیفیں اس کے لئے مقدر تھیں تاکہ وہ اپنی زار حالت سے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پورا کرے۔گو وہ قید ہو چکا تھا مگر روس کی حکومت کی باگ شاہی خاندان کے ایک فرد شہزاد و لواد کے ہاتھ میں تھی جس کی وجہ سے قید میں اس کے ساتھ احترام کا سلوک ہو رہا تھا اور وہ اپنے بچوں سمیت باغبانی اور اسی قسم کے دوسرے شغلوں میں وقت گزار تا تھا۔مگر جولائی میں اس شہزادہ کو بھی علیحدہ ہونا پڑا اور حکومت کی باگ کرنسکی کے ہاتھ میں دی گئی جس سے قید کی سختیاں بڑھ گئیں۔تاہم انسانیت کی حدود سے آگے نہیں نکلی تھیں۔لیکن سات نومبر کو بولشوک بغاوت نے کرنسکی کی حکومت کو بھی بیدخل کر دیا اب زار کی وہ خطر ناک حالت شروع ہوئی جسے سن کر سنگدل سے سنگدل انسان بھی کانپ جاتا ہے زار سکو سیلو کے شاہی محل سے نکال کر مختلف جگہوں میں رکھا گیا اور آخران مظالم کی یاد دلانے کے لئے جو وہ سائبیریا کی قید کے ذریعہ اپنی بیکس رعایا پر کیا کرتا تھا کیٹیرن برگ بھیج دیا گیا جو ایک چھوٹا سا شہر ہے جو جیل یورال کے مشرق کی طرف واقع ہے اور ماسکو سے ۱۴۴۰ میل کے فاصلہ پر ہے۔اور اس جگہ وہ سب مشینیں تیار ہوتی ہیں جو سائبیریا کی کانوں میں جہاں روسی پولیٹیکل قیدی کام کیا کرتے تھے استعمال کی جاتی ہیں۔گویا ہر وقت اس کے سامنے اس کے اعمال کا نقشہ رکھا رہتا تھا۔صرف ذہنی عذابوں پر ہی اکتفاء نہیں کی گئی بلکہ سوویٹ نے اس کے کھانے پینے میں بھی تنگی کرنا