تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 386 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 386

اریخ احمدیت جلد ؟ ۳۹۳ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز پیشگوئیوں کے ظاہر ہوئے جو " براہین احمدیہ " میں شائع کی گئی تھیں اور بعد کو پوری شان سے پوری ہوئیں۔کتاب کے ضمیمہ میں زلزلہ کی پیشگوئی کے متعلق بعض مخالفین کے اعتراضات کے جوابات کے علاوہ مشہور بنگالی عالم مولانا سید عبد الواحد صاحب برہمن بڑیہ کے سوالات کا بھی مکمل جواب دیا جو انہوں نے اس زمانہ میں حضور کی خدمت میں لکھ کر بھجوائے تھے۔مولوی سید عبد الواحد صاحب پر ان جوابات نے حق بالکل منکشف کر دیا اور آپ یکم نومبر ۱۹۱۲ء کو حضرت خلیفہ المسیح الاول کے ہاتھ پر بیعت کر کے داخل سلسلہ ہو گئے اور پھر پوری عمر تبلیغ حق میں گزار دی۔اس کتاب میں حضور نے " زندہ مذہب اور سورۃ مومنون کی ابتدائی آیات پر ایسی لطیف روشنی ڈالی ہے کہ انسان اس علمی معجزہ کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔کتاب میں حضور کی دو طویل مگر مئوثر اردو نظمیں اور ایک عربی نظم بھی شامل ہیں جن میں آپ کے دعادی اور ان کے دلائل اور نشانات کا نہایت عمدہ رنگ میں خلاصہ آگیا ہے۔زلزلہ عظیمہ کی زبردست پیشگوئی ایک زلزلہ عظیم کے متعلق حضرت اقدس نے " النداء من السماء" اور دوسرے اور اس کا ظہور جنگ عظیم کی شکل میں اشتہارات میں جو پیشگوئیاں فرما ئیں تھی ان کو مزید تفصیلات حضور نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ایک نظم کے آخر میں درج فرما ئیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا اک نشان ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر اور مرغزار آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ یہ ہو گا کہ تاباندھے آزار یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بخار اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیر وزیر نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آب رود بار رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن صبح کر دے گی انہیں مثل درختان چنار ہوش اڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی راہ کو بھولیں گے ہو کر مست و بے خود راہوار خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کنار اک نمونہ قمر کا ہو گا ربانی نشاں وہ ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیه ناشناس اس چہ ہے میری سچائی کا بھی دار و مدار