تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 384
اریخ احمدیت۔جلد ۲ باغ میں ایک شہر آباد ہو گیا تھا" PAI زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز حضرت اقدس ۴ / اپریل ۱۹۰۵ء کو زلزلہ کے دوران میں باغ میں باغ سے اندار میں واپسی تشریف لائے رتھے۔۳۰ / جون ۱۹۰۵ء کو آپ نے فرمایا کہ بہت جلد قادیان چلے جانے کا ارادہ ہے میں صرف اس امر کا منتظر ہوں کہ ذرا بارش ہو جائے۔چنانچہ یکم جولائی ۱۹۰۵ء کی رات کو بارش شروع ہوئی اور حضور نے دوسرے روز ۲/ جولائی کی صبح کو کوچ کا حکم دے دیا۔چنانچہ ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت اقدس خیریت کے ساتھ قادیان آگئے۔باغ میں جو چہل پہل تھی وہ قادیان میں نظر آنے لگی اور احمدی محلہ از سر نو آباد ہو گیا۔آئندہ زلازل کے متعلق خبریں حضرت اقدس کا ابتداء باغ میں آنے کا منشاء صرف یہ تھا کہ چند روز باغ میں چل کر دعائیں کریں مگر اس کے بعد آپ کو الہامات کے ذریعہ سے مسلسل خبریں ملنے لگیں کہ پھر زلزلے آنے والے ہیں۔لہذا حضور کو مزید انکشافات تک نہیں رہنا پڑا۔II حضرت اقدس کو ۸ / اپریل ۹۴٬۶۱۹۰۵/ اپریل ۱۹۰۵ء اور پھر ۲۹ اپریل ۱۹۰۵ء کو زلازل کے متعلق متعدد الہامات ہوئے جو آپ نے انہی دنوں مختلف اشتہارات کے ذریعہ سے اہل ملک تک پہنچادئیے۔سوان پیشگوئیوں کے مطابق اگلے سال سے پھر زلازل شروع ہو گئے۔چنانچہ ۱۹۰۶ء میں کیلیفورنیا اور واپریز اور چلی میں زبر دست زلزلے آئے۔۱۹۰۷ ء میں جمیکا میں زلزلہ آیا۔۱۰۰۸ء میں میسینا اور کلیریا میں ۱۹۱۴ء میں اٹلی میں ۱۹۳۴ میں بہار میں اور ۱۹۳۵ ء میں کوئٹہ میں زلزلہ آیا۔۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد عام طور پر خیال تھا کہ ہندوستان میں یہ آفت نہیں آئے گی۔چنانچہ جاپان کا ایک پروفیسر اموری جو علم زلازل کا محقق اور مبصر تھا زلازل کی تحقیقات کے لئے ہندوستان آیا اور تحقیقات کے بعد بعد اس نے اپنی رائے ظاہر کی کہ یہاں اب دو سو سال تک اور کوئی زلزلہ نہیں آئے گا لیکن اگلے سال ہی ۲۷ / فروری ۱۹۰۶ ء کا دن گزرنے کے بعد رات کو ڈیڑھ بجے کے قریب ایسا زبردست زلزلہ آیا کہ بہت سے گھر مسمار اور بہت سی جائیں تلف ہو گئیں۔11 حضرت اقدس کو یہ الہام ہوا تھا کہ ع " پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی " اس کے بارے میں آپ کی تقسیم یہ تھی کہ ”بہار کے زمانہ میں ایک اور سخت زلزلہ آنے والے ہے۔وہ بہار کے دن ہوں گے۔" چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق یہ زلزلہ بہار ہی کے دنوں میں آیا۔