تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 376
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۷۳ سفر سیالکوٹ ۲۷- الحکم ۱۷ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۸ کالم نمبر ۴ ۲۸ بہاء اللہ کی تعلیمات " صفحہ مطبوعہ اگره ( حوالہ " تحریک بہائیت پر تبصره از جناب مولانا ابو العطاء صاحب فاضل) ۲۹ مکاتیب عبد البہاء " جلد ۲ صفحہ ٢٦٦ میں لکھا ہے:۔دریوم تظهور حضرت اعلیٰ منطوق بیان ضرب اعناق و حرق کتب و اوراق دیدم بقاع و قتل عام الامن آمن و صدق بود " الحراب مصنفہ استاذ محمد فاضل مطبوعہ مصر ۷۳ از بحوالہ بہائی تحریک پر تبصرہ صفحہ ۳۲) ۳۱ اقتدار صفحه ۴۷-۲۸ مولقہ بہاء اللہ ۳۲ الکواکب ۴۰۰ بہائی تحریک پر تبصرہ صفحه ۵۵ طبع اول ۳۳- بہاء الله و عصر جدید صفحه ۳۴ ۳۳۰ رسالہ ”جواب نامہ جمعیت لاہائی صفحہ ۳۷ مطبوع مصر بحوالہ بہائی تحریک پر تبصرہ ۲۵ - الفرائد صفحات بحوالہ تحریک بہائیت پر تبصرہ صفحہے اقدس صفحه ۱۸۱ مطبوع مطبع ناصری سمیتی ۱۳۷۳ء ۳۷ نقطه الكاف صفحه ۱۴۴ ۳۸ مشکوۃ المصابیح مطبوعہ مطبع محمدی بیتی۔باب العلامات بین الساعة وذکر الدجال صفحه ۴۱۹ ۳۹- سرورق نمبر لیکچر لاہور اس روز مرزا محمود ایرانی کے ایک خط کے جواب میں اپنی سچائی کے ثبوت میں بالتفصیل بتایا کہ سورہ کہف میں آخری زمانہ میں ایک ذوالقرنین کے ظہور کی پیشگوئی ہے۔یہ پیشگوئی مسیح موعود کے متعلق ہے جس کا مصداق دنیا کے پردے پر صرف میں ہوں کیونکہ میرے وجود نے مشہور و معروف صدیوں میں خواہ ہجری میں خواہ مسیحی خواو بکر، بیتی اس طور پر اپنا ظہور کیا ہے کہ ہر جگہ دو صدیوں پر مشتمل ہے۔(لیکچر لاہور صفحہ ۵۳-۵۴) ا جواب لیکچر جناب قادیانی " صفحه ۲۴-۲۶ شائع کردہ انجمن اشاعت بہائیاں رنگون ۱۹۰۸ء جواب لیکچر جناب قادیانی " صفحہ سے شائع کردہ انجمن اشاعت بہائیاں رنگون ۱۹۰۸ء ۴۳ الحکم ۱۰ اگست ۱۹۰۷ء صفحه ۳ - ۸ کالم ۲ تا هم ۴۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ دعوئی گیتا کی پیشگوئی اور ضرورت زمانہ کے عین مطابق اور حضور کی صداقت کا ایک بھاری ثبوت تھا تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ریویو آف ریلیجز اردو مارچ ۱۹۳۴ء) ۳۵ حیات طیبہ " میں لکھا ہے کہ اس موقعہ پر پادری اسکاٹ کے ساتھ شیخ عبدالحق صاحب نو مسلم بھی تھے یہ صحیح نہیں۔اس سفر کی پوری روداد شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے لکھی تھی۔اور انہوں نے قطع یہ نہیں لکھا۔صرف یہ لکھا ہے کہ پادری اسکات کے ساتھ شیخ عبد الحق صاحب نو مسلم کے تعلقات تھے۔(الحکم ۷/۲۴ او سمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۵ کالم نمبر ۳) الحکم ۱۰/۱۷ نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۰۱ احکم ۲۴/ نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۳-۶- احکم ۱۳۰ تو میر ۱۹۰۴ء صفحہ ۳-۱- الحکم ۳- ۲۴ دسمبر C_3419 ۳۷ ولادت ۱۸۷۳ء۔حضرت چوہدری صاحب کو ابتداء ہی سے سلسلہ سے محبت تھی۔وہ اکثر مولوی عبد الکریم صاحب کے درس میں شامل ہوتے اور اس درجہ متاثر تھے کہ خود مولوی صاحب اکثر فرماتے تھے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ چوہدری صاحب اس سلسلہ سے علیحدہ رہیں۔مولوی مبارک علی صاحب کے خلاف احمدی ہونے کے باعث ایک مقدمہ دائر ہوا اور جماعت سیالکوٹ نے چوہدری صاحب کو وکیل مقرر کیا۔مقدمہ کی پیروی کی خاطر آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لٹریچر کا تفصیلی مطالعہ کرنا پڑا۔اور آپ بڑے متاثر ہوئے۔۱۹۰۴ء میں آپ کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے مولوی کرم دین صاحب والے مقدمہ میں بطور گواہ صفائی بھی طلب کیا گیا جہاں انہیں پہلی بار حضرت مسیح موعود کی خدمت میں شرف باریابی حاصل ہوا اور آپ بہت خوشگوار اثر لے کر واپس آئے۔اور بالاخر حضور کے قیام سیالکوٹ کے دوران بیعت کرلی۔( آپ کی اہلیہ محترمہ نے اپنے کشف کی بناء پر چند دن پہلے بیعت کرنے کی سعادت پائی) بیعت کے بعد چوہدری صاحب میں ایک عظیم روحانی انقلاب