تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 24 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 24

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۳ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام ملخصا از الحکم ۱۳۶۶مئی ۲۷٬۲۰۰/ مئی ۶۱۸۹۸ ۳۷- البلاغ صفحه ۲ تا ۷ ( تلخیص) ۳۸ البلاغ طبع اول صفحه ۱۳ ۳۹- سراج الاخبار (۲۵/ جولائی ۱۸۹۸) بحوالہ الحکم ۱۳۶۶ اگست ۱۸۹۸ء صفحه ۸ کالم ۲ ۴۰ البلاغ صفحه ۳۴٬۳۳( طبع اول) تاریخ وفات سرسید احمد خاں مرحوم (۲۷ مارچ ۱۸۹۸ء الحکم ۲۷۲۰/ ستمبر ۱۸۹۸ء صفحہ ۷ کالم ۴۳- الحکم ۱۰ جنوری ۱۹۰۰ ء صفحہ ۴ کالم ۳ ۴۳- تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحه ۴۶۴۴۰ -۴۴ یه قلمی رجسٹر اس وقت خلافت لائبریری میں موجود ہے۔رجسٹر کے اولین اندراج کی تاریخ ۱۵/ جون ۱۸۹۸ء معلوم ہوتی ہے فہرست کی ترتیب یہ تھی۔نام صاحب اولاد۔سکونت۔نام اولاد - عمر۔رجسٹر میں حضور نے اپنے قلم سے سب سے پہلا نام محمد حسین صاحب قریشی مالک کارخانه رفیق الصحت لاہور) کا لکھا تھا اور آخری نام مرزا ر سول بیگ صاحب (پسر مرزا نیاز بیگ صاحب کلانوری کا ۴۵- "برکات خلافت " طبع اول صفحه ۷۲ ( تقریر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) - لاہوری فریق کے ایک لیڈر لکھتے ہیں۔”بہت سے نوجوان ہمارے سامنے ہیں جن کے باپ دادا سلسلے پر عاشق تھے لیکن ان نوجوانوں میں وہ روح آج مفقود ہے۔(پیغام صلح / فروری ۱۹۵۲ء صفحہ سے کالم ) یہ حالات اس درجہ تشویشناک ہیں کہ ان حضرات کا کہنا ہے کہ "ہمارا مستقبل ایسی تاریکیوں کے اندر گھرا ہوا ہے کہ ان سے نکلنا اور پہلے کی سی روشن فضاؤں کا پیدا ہونا محال ہے۔اس صدی کے مجدد کی تحریک بھی اب زندگی کے آخری مرحلوں میں ہے اور اب نیا مجد رہی اگر اس کو دوبارہ زندہ کریگا اس میں زندگی کی روح پیدا کرنا اب ہمارا کام نہیں " (پیغام صلح ۱۵/ جنوری ۱۹۵۸ء صفحه ۳ کالم) ۴۷۔علامہ نیاز محمد خان نیاز فتحپوری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ بالا ارشاد کی تعمیل میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو اعتصام و فراست " سے موسوم کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔اب رہا یہ امر کہ غیر احمدی لوگوں میں وہ رشتہ مصاہرت قائم نہیں کرتے اور ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تو اس پر کسی کو کیوں اعتراض ہو ؟ کیا آپ کسی ایسے خاندان میں شادی کر نا گوارا کریں گے جس کے افراد آپ کے مسلک کے مخالف ہیں اور کیا آپ ان لوگوں کی اقتداء کریں گے جو اپنے کردار کے لحاظ سے مقتدا بننے کے اہل نہیں ہیں احمدی جماعت کا ایک خاص اصول زندگی ہے جس پر ان کے مرد ان کے بچے اور ان کی عورتیں سب یکساں کار بند ہیں۔اس لئے اگر وہ کسی غیر احمد ہی مرد یا عورت سے رشتہ ازدواج قائم کریں گے تو ان کی اجتماعیت یقینا اس سے متاثر ہوگی اور وہ یک رنگی اور ہم آہنگی جو اس جماعت کی خصوصیت خاصہ ہے ختم ہو جائے گی۔آپ اس کو تعصب کہتے ہیں میں اس کو اعتصام و فراست "۔رسالہ نگار لکھنو اکتوبر ۱۹۶۰ء لائف آف احمد اصلحه ۱۳۴۱ از مولانا عبد الرحیم صاحب درد) - نزول المسیح ۲۲۹۔حضرت اقدس نے نزول اصسبیح صفحہ ۲۲۹ میں خواجہ صاحب کے علاوہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے مولوی عبد الكريم صاحب مولوی نور الدین صاحب مولوی شیر علی صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب کو بھی اس نشان کا گواہ قرار دیا ۴۸ -0° ہے حیات احمد جلد پنجم صفحه ۴۹ ا "لا تف آف احمد صفحه ۴۴۱ -۵۲ ضرورت الامام (طبع اول) صفحه ۳۲-۴۴ و نزول المسیح صفحه ۲۲۹ حیات احمد جلد پنجم صفحه ۵۲ (حالات ۱۸۹۸ تا۲۱۹۰۰) ۵۳ حیات احمد جلد پنجم صفحه ۴۹ ۵۴- مولف کتاب " مجدد اعظم " ( جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب) نیز مولف "حیات طیبہ" نے لکھا ہے کہ ایام الصلح تیم اگست ۱۸۹۸ء کو شائع ہو گئی تھی۔مگر یہ درست نہیں کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ۲۰/ ستمبر ۱۸۹۸ کے