تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 362
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۵۹ سفر سیالکوٹ سفرسیالکوٹ قیام لاہور کے دوران میں جماعت سیالکوٹ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سیالکوٹ تشریف لے جانے کے لئے عرض کیا۔حضور نے یہ درخواست منظور فرمالی اور جماعت کے دوستوں نے نہایت مستعدی اور کمال جوش کے ساتھ سیالکوٹ میں جاکر مکانات وغیرہ کا انتظام شروع کر دیا۔مقدمات سے فرصت پاکر حضور قادیان تشریف لے گئے تو میاں محمد رشید صاحب جماعت سیالکوٹ کی طرف سے بطور نمائندہ سفر سیا لکوٹ کی تاریخ کی تحسین کی غرض سے قادیان گئے۔حضور کی طبیعت ان دنوں کچھ ناساز تھی اس لئے فرمایا کہ دو چار روز کے بعد جواب دوں گا۔حضور کا منشاء استخارہ مسنونہ کا بھی تھا۔آخر ۷ ۲/ اکتوبر ۱۹۰۴ء کی صبح تاریخ روانگی مقرر ہوئی۔حضور نے روانگی کے لئے ایک ایسی گاڑی تجویز فرمائی جو رات کو سیالکوٹ پہنچتی تھی ادھر جماعت سیالکوٹ کی یہ خواہش تھی اور اس کے اظہار کے لئے انہوں نے کارڈ کے علاوہ ایک اور خاص آدمی بھی بھیجا کہ حضور کا داخلہ شهر سیالکوٹ میں دن کے وقت ہو اس لئے حضور ایسی گاڑی میں آئیں جو دن کو داخل ہو۔مقصود یہ تھا کہ رات کو کثرت انبوہ میں انتظامی مشکلات نہ ہوں۔دوسرے حضور کی زیارت کے مشتاق کثرت کے ساتھ سیالکوٹ میں جمع ہونے والے تھے اور کل شہر اس بابرکت دن کا انتظار کر رہا تھا اس لئے دن کو یہ نظاره دو سروں پر اثر انداز ہو سکتا تھا۔کوئی دنیوی جادو ختم یا استقبال و نمائش کا بھو کا ہو تا یا گدی نشین ہو تا توہ اس رائے کو پسند کرتا مگر خدا کے اس برگزیدہ نے جو محض اللہ تعالٰی کے ساتھ تعلق میں ہی لذت و ذوق پا تا تھا اس صورت کے لئے تیار نہ ہوا اور حضور نے اپنے پروگرام میں کسی قسم کی ترمیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسی گاڑی سے سیالکوٹ جانے کا فیصلہ فرمایا جو رات کو وہاں پہنچتی تھی روانگی از قادیان تاریخ طے پا چکی تو سفر کے انتظام کے متعلق مختلف احباب کو مختلف خدمات سپرد کی گئیں۔چنانچہ مفتی محمد صادق صاحب گاڑی کے ریزرو کرانے اور سواری کا انتظام کرنے پر مامور ہوئے اور مرزا خدا بخش صاحب مصنف عسل مصفی منتظم اسباب