تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 318 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 318

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۱۵ کالم میں حضرت سید عبداللطیف صاحب کی : سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت یہ میں نے اس لئے پڑھے ہیں کہ تا میں بھی ان کی شاگردی میں داخل ہو جاؤں۔حضرت صاحب کے بعد یہ خلیفہ اول ہوں گے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب سفر جہلم اختیار فرمایا تو حضرت صاحبزادہ صاحب بھی حضور کے ہمرکاب تھے۔مولوی عبد اللطیف صاحب قادیان میں ہی تھے کہ حضرت اقدس کو حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کا علم دیا گیا۔آپ کو الہام ہوا۔قتل خَيْبَةٌ وَزِيدَ هَيْبَةٌ - " یعنی ایسی حالت میں شہید ہو کہ اس کی بات کو کسی نے نہ سنا اور اس کا مارا جانا ایک ہیبت ناک امر تھا۔دوسری طرف حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب پر بھی یہ امر بالکل منکشف ہو چکا تھا کہ کابل کی زمین آپ کے خون کی منتظر ہے چنانچہ مولوی عبد الواحد خان صاحب سیالکوٹی کی روایت ہے کہ جہلم کی بات ہے حضرت صاجزادہ صاحب رات کے وقت ہمارے کمرے میں تشریف لائے اور فرمایا کہ بار بار الهام می شود سریدہ سریدہ سریدہ کہ مجھے بار بار الہام ہوتا ہے کہ سردو سرور سرد و حضرت صاحبزادہ صاحب امیر کابل سے چھ ماہ کی رخصت لے کر قادیان سے کابل کو واپسی آئے تھے۔جب روانگی کا وقت آیا تو صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود سے رخصت ہونے کی اجازت مانگی تو حضور نے فرمایا کہ جب آپ کو دوسرے سال حج کے لئے جانا ہے تو آپ یہیں ٹھہر جائیں مگر انہوں نے عرض کیا کہ حج کے لئے پھر آجاؤں گا۔آخر حضور نے ان کے اصرار پر دو چار روز کے بعد اجازت دے دی۔جب حضرت صاحبزادہ صاحب روانہ ہوئے تو حضور اور حضور کے خدام احمد نور صاحب کاہلی کے بیان کے مطابق ڈیڑھ میل تک اور بعض کے بیان کے مطابق و ڈالہ کی نہر تک چھوڑنے کے لئے تشریف لے گئے۔یہ غالباً آخر جنوری ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے۔صاحبزادہ صاحب رخصت ہونے لگے تو آپ جوش عقیدت سے حضرت اقدس کے قدموں پر گر پڑے اور دونوں ہاتھوں سے حضور کے قدم مبارک پکڑ لئے اور عرض کیا کہ میرے لئے دعا فرما ئیں تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ اچھا میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں آپ میرے پاؤں چھوڑ دیں انہوں نے پاؤں نہ چھوڑنے پر اصرار کیا۔حضرت اقدس نے فرمایا الامر فوق الادب - تب صاجزادہ صاحب نے یہ لفظ سنتے ہی پاؤں چھوڑ دیئے۔حضور سے رخصت ہو کر آپ سیدھے بٹالہ آئے وہاں سے لاہور پہنچے۔تمام راستہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے۔لاہور پہنچ کر میاں چراغ دین صاحب کے پرانے مکان کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد میں تین چار دن قیام فرمایا۔مکان تو آپ کے دوستوں کے بھی تھے مگر آپ نے خلوت پسندی کی خاطر مسجد کو ہی ترجیح دی۔جمعہ کے دن آپ نے مسجد گئی والی میں نماز